سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الْحُجُرَاتِ باب: سورۃ الحجرات سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الْمُسْتَمِرِّ بْنِ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ : قَرَأَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الأَمْرِ لَعَنِتُّمْ سورة الحجرات آية 7 ، قَالَ : هَذَا نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوحَى إِلَيْهِ وَخِيَارُ أَئِمَّتِكُمْ لَوْ أَطَاعَهُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُوا فَكَيْفَ بِكُمُ الْيَوْمَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ : سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ ، عَنِ الْمُسْتَمِرِّ بْنِ الرَّيَّانِ ، فَقَالَ : ثِقَةٌ .´ابونضرہ کہتے ہیں کہ` ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے آیت : «واعلموا أن فيكم رسول الله لو يطيعكم في كثير من الأمر لعنتم» ” جان لو تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے ، اگر وہ بیشتر معاملات میں تمہاری بات ماننے لگ جائے تو تم مشقت و تکلیف میں پڑ جاؤ گے “ ( الحجرات : ۷ ) ، تلاوت کی اور اس کی تشریح میں کہا : یہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، ان پر وحی بھیجی جاتی ہے اور اگر وہ بہت سارے معاملات میں تمہاری امت کے چیدہ لوگوں کی اطاعت کرنے لگیں گے تو تم تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ، چنانچہ ( آج ) اب تمہاری باتیں کب اور کیسے مانی جا سکتی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں : میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے مستمر بن ریان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : وہ ثقہ ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابونضرہ کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے آیت: «واعلموا أن فيكم رسول الله لو يطيعكم في كثير من الأمر لعنتم» ” جان لو تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، اگر وہ بیشتر معاملات میں تمہاری بات ماننے لگ جائے تو تم مشقت و تکلیف میں پڑ جاؤ گے “ (الحجرات: ۷)، تلاوت کی اور اس کی تشریح میں کہا: یہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ان پر وحی بھیجی جاتی ہے اور اگر وہ بہت سارے معاملات میں تمہاری امت کے چیدہ لوگوں کی اطاعت کرنے لگیں گے تو تم تکلیف میں مبتلا ہو جاتے، چنانچہ (آج) اب تمہاری باتیں کب اور کیسے مانی جا سکتی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3269]
وضاحت:
1؎:
جان لو تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، اگر وہ بیشتر معاملات میں تمہاری بات ماننے لگ جائے تو تم مشقت وتکلیف میں پڑ جاؤ گے (الحجرات: 7)