سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الْحُجُرَاتِ باب: سورۃ الحجرات سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ فِي قَوْلِهِ : " إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لا يَعْقِلُونَ سورة الحجرات آية 4 ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ حَمْدِي زَيْنٌ وَإِنَّ ذَمِّي شَيْنٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَاكَ اللَّهُ تَعَالَى " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . براء بن عازب رضی الله عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «إن الذين ينادونك من وراء الحجرات أكثرهم لا يعقلون» ” اے نبی ! جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے آواز دے کر پکارتے ہیں ، ان کی اکثریت بے عقلوں کی ہے “ ( الحجرات : ۴ ) ، کی تفسیر میں کہتے ہیں : ایک شخص نے ( آپ کے دروازے پر ) کھڑے ہو کر ( پکار کر ) کہا : اللہ کے رسول ! میری تعریف میری عزت ہے اور میری مذمت ذلت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ صفت تو اللہ کی ہے ( یہ اللہ ہی کی شان ہے ) “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
براء بن عازب رضی الله عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «إن الذين ينادونك من وراء الحجرات أكثرهم لا يعقلون» ” اے نبی! جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے آواز دے کر پکارتے ہیں، ان کی اکثریت بے عقلوں کی ہے “ (الحجرات: ۴)، کی تفسیر میں کہتے ہیں: ایک شخص نے (آپ کے دروازے پر) کھڑے ہو کر (پکار کر) کہا: اللہ کے رسول! میری تعریف میری عزت ہے اور میری مذمت ذلت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ صفت تو اللہ کی ہے (یہ اللہ ہی کی شان ہے)۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3267]
وضاحت:
1؎:
اے نبی جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے آواز دے کر پکارتے ہیں، ان کی اکثریت بے عقلوں کی ہے (الحجرات: 4)