سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الْفَتْحِ باب: سورۃ الفتح سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3265
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى سورة الفتح آية 26 ، قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ قَزَعَةَ ، قَالَ : وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «وألزمهم كلمة التقوى» ” اللہ نے انہیں تقوے کی بات پر جمائے رکھا “ ( الفتح : ۲۶ ) ، کے متعلق فرمایا : ” اس سے مراد «لا إله إلا الله» ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- اسے ہم حسن بن قزعہ کے سوا کسی اور کو مرفوع روایت کرتے ہوئے نہیں جانتے ، ۳- میں نے ابوزرعہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس سند کے سوا کسی اور سند سے اسے مرفوع نہیں جانا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الفتح سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «وألزمهم كلمة التقوى» ” اللہ نے انہیں تقوے کی بات پر جمائے رکھا “ (الفتح: ۲۶)، کے متعلق فرمایا: ” اس سے مراد «لا إله إلا الله» ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3265]
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «وألزمهم كلمة التقوى» ” اللہ نے انہیں تقوے کی بات پر جمائے رکھا “ (الفتح: ۲۶)، کے متعلق فرمایا: ” اس سے مراد «لا إله إلا الله» ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3265]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
(اللہ نے انہیں تقوے کی بات پر جمائے رکھا) (الفتح: 26)
وضاحت:
1؎:
(اللہ نے انہیں تقوے کی بات پر جمائے رکھا) (الفتح: 26)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3265 سے ماخوذ ہے۔