سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الْفَتْحِ باب: سورۃ الفتح سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَال : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، فَكَلَّمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَكَتَ ، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ فَسَكَتَ ، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ فَسَكَتَ ، فَحَرَّكْتُ رَاحِلَتِي فَتَنَحَّيْتُ ، وَقُلْتُ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كَلُّ ذَلِكَ لَا يُكَلِّمُكَ ، مَا أَخْلَقَكَ بِأَنْ يَنْزِلَ فِيكَ قُرْآنٌ ، قَالَ : فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي ، قَالَ : فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ لَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيَّ هَذِهِ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مِنْهَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ مَالِكٍ مُرْسَلًا .´عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے ، میں نے آپ سے کچھ کہا ، آپ خاموش رہے ، میں نے پھر آپ سے بات کی آپ پھر خاموش رہے ، میں نے پھر بات کی آپ ( اس بار بھی ) خاموش رہے ، میں نے اپنی سواری کو جھٹکا دیا اور ایک جانب ( کنارے ) ہو گیا ، اور ( اپنے آپ سے ) کہا : ابن خطاب ! تیری ماں تجھ پر روئے ، تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین بار اصرار کیا ، اور آپ نے تجھ سے ایک بار بھی بات نہیں کی ، تو اس کا مستحق اور سزاوار ہے کہ تیرے بارے میں کوئی آیت نازل ہو ( اور تجھے سرزنش کی جائے ) عمر بن خطاب کہتے ہیں : ابھی کچھ بھی دیر نہ ہوئی تھی کہ میں نے ایک پکارنے والے کو سنا ، وہ مجھے پکار رہا تھا ، عمر بن خطاب کہتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، آپ نے فرمایا : ” ابن خطاب ! آج رات مجھ پر ایک ایسی سورۃ نازل ہوئی ہے جو مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج نکلتا ہے اور وہ سورۃ یہ ہے «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» ” بیشک اے نبی ! ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے “ ( الفتح : ۱ ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ۲- بعض نے اس حدیث کو مالک سے مرسلاً ( بلاعاً ) روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، میں نے آپ سے کچھ کہا، آپ خاموش رہے، میں نے پھر آپ سے بات کی آپ پھر خاموش رہے، میں نے پھر بات کی آپ (اس بار بھی) خاموش رہے، میں نے اپنی سواری کو جھٹکا دیا اور ایک جانب (کنارے) ہو گیا، اور (اپنے آپ سے) کہا: ابن خطاب! تیری ماں تجھ پر روئے، تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین بار اصرار کیا، اور آپ نے تجھ سے ایک بار بھی بات نہیں کی، تو اس کا مستحق اور سزاوار ہے کہ تیرے بارے میں کوئی آیت نازل ہو (اور تجھے سرزنش کی جائے) عمر بن خطاب کہتے ہیں:۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3262]
وضاحت:
1؎:
بیشک اے نبیﷺ!ہم نے آپﷺ کوایک کھلم کھلا فتح دی ہے (الفتح: 1)
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہرسوال کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا بلکہ بعض دفعہ تو خاموش ہی اس کا جواب ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باربار سوال کرنے پر اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔
2۔
واضح رہے کہ یہ سفر عمرہ حدیبیہ سے واپس آنے کا تھا۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم حدیبیہ سے واپس ہوئے تو ہم پر غم اور پریشانی کے آثار نمایاں تھے کیونکہ کفار مکہ ہمارے عمرے اورقربانیوں کے درمیان حائل ہوئے تھے، تو ان حالات میں یہ سورت نازل ہوئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت کو دنیا و ما فیھا سے عزیز قراردیا کیونکہ یہ نصرت اسلام، اتمام نعمت، اصحاب شجرہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور ان کے علاوہ بے شمار ایسے امور پر مشتمل ہے جو اہل اسلام کے لیے بشارت کا باعث ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہوں کی معافی کا ذکر کیا ہے۔
حضرت عمر ؓ کو یہ معلوم نہ ہوا اس لیے وہ با ر بار پوچھتے رہے مگر آنحضرت ﷺ خاموش رہے جس کو حضرت عمر ؓ نے آنحضرتﷺ کی خفگی پر محمول کیا۔
بعد میں حقیقت حال کے کھلنے پر صحیح کیفیت معلوم ہوئی۔
سورۃ انا فتحنا کا اس موقع پر نزول اشاعت اسلام کے لیے بشارت تھی اس لیے آنحضرت ﷺ نے اس سورت کو ساری کائنات سے عزیز ترین بتلایا۔
1۔
یہ آیات صلح حدیبیہ سے واپسی کے وقت نازل ہوئیں۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مقام ضجنان یاجحفہ یا کرام الغمیم میں ان کا نزول ہوا۔
یہ تینوں مقامات قریب قریب واقع ہیں۔
(فتح الباري: 742/8)
2۔
چونکہ آپ پر وحی کا نزول ہورہا تھا، اس لیے آپ نے حضر ت عمر ؓ کو ان کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔
دراصل صلح حدیبیہ کی شرائط سے مسلمانوں میں بہت بے چینی تھی، خود حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ دخول اسلام کے بعد مجھے اتنے شبہات پیش نہیں آئے جتنے صلح حدیبیہ کی شرائط تسلیم کرنے سے پیش آئے، انھوں نے اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے ایسی گفتگو کی جس کا انھیں بعد میں احساس ہوا۔
انھوں نے اس کی تلافی کے لیے کئی قسم کے اعمال خیر کیے۔
(صحیح البخاري، الشروط، حدیث: 2731۔
2732)
بہرحال یہ سفر صلح حدیبیہ سے واپسی کا تھا، اسی صورت میں یہ حدیث مذکورہ عنوان سے مطابق ہوگی۔
3۔
واضح رہے کہ آیت کریمہ میں فتح مبین سے مراد صلح حدیبیہ ہے جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔
واللہ اعلم۔
اس لحاظ سے اس سورت کو ایک خاص تاریخی حیثیت حاصل ہے۔
1۔
مذکورہ سفر صلح حدیبیہ کا تھا۔
اس میں واضح طور پر سورہ الفتح کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
اس سورہ مبارکہ کو ایک خاص تاریخی حیثیت حاصل ہے۔
اس کے نازل ہونے کے بعد فتوحات اسلامیہ کا ایک دروازہ کھل گیا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بخوبی جانتے تھے کہ میرا آگے بڑھ جانا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہو جانا نزول وحی سے رکاوٹ کا باعث نہیں ہے۔
اس کے باوجود وہ آگے اس لیے چلے گئے کہ بار بار سوال کرنے سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پریشانی کا باعث بنا ہوں۔
جب میں دور چلا جاؤں گا تو جو پریشانی آپ کو میری وجہ سے لاحق ہوئی تھی وہ دور ہو جائے گی۔
2۔
بہر حال اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیال گزرا کہ میرے سوال کرنے میں بے ادبی ہو گئی ہے، اس لیے اونٹ بھگا کر لے گئے کہ کہیں میری اس حرکت پر کوئی آیت ہی نازل نہ ہو جائے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول وحی میں مصروفیت کی وجہ سے جواب نہ دیا ہو، یہ بھی احتمال ہے کہ انھوں نے فراغت کے بعد جواب دیا ہو جس کا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذکر نہ کیا۔
واللہ اعلم۔
«. . . مالك عن زيد بن اسلم عن ابيه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسير فى بعض اسفاره . . .»
”. . . اسلم (تابعی) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی سفر میں جا رہے تھے اور سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بھی رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 572]
تفقه:
① بعض اوقات کسی مصروفیت یا عذر کی وجہ سے اگر سائل کے سوال کا جواب نہ دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
② رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے ہر وقت ڈرنا چاہئے۔
③ سورۂ فتح سفر میں نازل ہوئی تھی جبکہ آپ سواری پر سوار تھے۔
④ رات کو سفر کرنا جائز ہے۔
⑤ عالم پر ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں ہے لہٰذا اگر عالم جواب نہ دے تو سائل کو ادب کا مظاہرہ کرتے ہوئے چپ ہوجانا چاہئے، اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ فوری جواب دے۔
⑥ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تقوی اور حب رسول کے اعلی مقام پر فائز تھے۔
⑦ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا بڑا مقام تھا۔
⑧ سند حدیث سے اس کے مرسل ہونے کا گمان ہوتا ہے، ابوالحسن القابسی رحمہ اللہ نے اسی شبہے کا ازالہ کیا ہے۔