سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الأَحْقَافِ باب: سورۃ الاحقاف سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا رَأَى مَخِيلَةً أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ لَهُ : فَقَالَ : وَمَا أَدْرِي ، لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ اللَّه تَعَالَى : فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا سورة الأحقاف آية 24 " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب برسنے والا کوئی بادل دیکھتے تو آگے بڑھتے پیچھے ہٹتے ( اندر آتے باہر جاتے ) مگر جب بارش ہونے لگتی تو اسے دیکھ خوش ہو جاتے ، میں نے عرض کیا : ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ( صحیح ) جانتا تو نہیں شاید وہ کچھ ایسا ہی نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا» ” جب انہوں نے اسے بحیثیت بادل اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا : یہ بادل ہم پر برسنے آ رہا ہے ، بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کی تم نے جلدی مچا رکھی تھی ( آندھی ہے کہ جس میں نہایت درد ناک عذاب ہے ) “ ( الاحقاف : ۲۴ ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب برسنے والا کوئی بادل دیکھتے تو آگے بڑھتے پیچھے ہٹتے (اندر آتے باہر جاتے) مگر جب بارش ہونے لگتی تو اسے دیکھ خوش ہو جاتے، میں نے عرض کیا: ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں (صحیح) جانتا تو نہیں شاید وہ کچھ ایسا ہی نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا» " جب انہوں نے اسے بحیثیت بادل اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ بادل ہم پر برسنے آ رہا ہے، بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کی تم ن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3257]
وضاحت:
1؎:
جب انہوں نے اسے بحیثیت بادل اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ بادل ہم پر برسنے آ رہا ہے، بلکہ یہ وہ عذاب ہے جس کی تم نے جلدی مچا رکھی تھی (آندھی ہے کہ جس میں نہایت دردناک عذاب ہے) (الأحقاف: 24)
قوم عاد پر اللہ نے قحط کا عذاب نازل کیا۔
انہوں نے اپنے کچھ لوگوں کو مکہ شریف بھیجا کہ وہاں جاکر بارش کی دعا کریں۔
مگر وہاں وہ لوگ عیش و عشرت میں پڑ کر دعا کرنا بھول گئے۔
ادھر قوم کی بستیوں پر بادل چھائے۔
قوم نے سمجھا کہ یہ ہمارے ان آدمیوں کی دعاؤں کا اثر ہے۔
مگر اس بادل نے عذاب کی شکل اختیار کرکے اس قوم کو تباہ کردیا۔
1۔
ہوا بھی اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہ جو مختلف تاثیررکھتی ہے اور قوموں کے عروج وزوال میں اس کا بڑا دخل ہے۔
قوم عاد پر اللہ تعالیٰ نے قحط نازل فرمایا۔
یہ لوگ بہت بڑی مدت سے بارش کو ترس رہے تھے۔
انھوں نے اس دوران میں ایک کالی گھٹا کو دیکھا جو ان کے علاقے کی طرف بڑھ رہی تھی۔
وہ خوشی سے جھوم اٹھے کہ اب خوشحالی آئے گی۔
انھیں کیا خبر تھی کہ یہ گھٹا بارانِ رحمت کی گھٹا ہے یا انھیں نیست و نابود کرنے کے لیے اللہ کا عذاب ہے۔
یہ آندھی انتہائی تیز رفتار اور سخت ٹھنڈی تھی جو آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل ان پر چلتی رہی۔
2۔
اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی چیز کی ظاہری شکل وصورت پر فریفتہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہروقت اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔
اگرچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو الفاظ میں تسلی دے رکھی تھی: ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ﴾ ’’جب تک آپ ان میں موجود ہیں اللہ انھیں عذاب نہیں دے گا۔
‘‘ (الأنفال: 33/8)
اس کے باوجود آپ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ جن لوگوں میں میری شخصیت نہیں ہوگی انھیں یہ بادل، عذاب کی شکل اختیار کرکے نیست ونابود کردے۔
1۔
ایک حدیث میں ہے کہ جب تیز ہوا چلتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے۔
(اللَّهُمَّ إِني أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرِ مَا فِيهَا، وخَيْر ما أُرسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بك مِنْ شَرِّهِا، وَشَرِّ ما فِيها، وَشَرِّ ما أُرسِلَت بِهِ)
جب آسمان پر بادل گہرے ہو جاتے تو آپ کے چہرہ انور کا رنگ بدل جاتا اور آپ پر خوف کی سی کیفیت طاری ہو جاتی جس سے آپ بے چین رہتے کبھی باہر نکلتے کبھی اندر آتے کبھی آگے ہوتے اور کبھی پیچھے جاتے۔
جب بارش ہو جاتی تو اطمینان کا سانس لیتے۔
(صحیح مسلم، صلاة الاستقاء، حدیث: 2085۔
(899)
2۔
قوم عاد پر جب ہوا کا عذاب آیا تو اس کی تیزی کا یہ عالم تھا کہ وہ درختوں اور پودوں کو بیخ جڑ سے اکھاڑ کر پرے پھینک دیتی تھی۔
یہی آندھی ان کے زمین دوزمکانوں میں گھس گئی اس دوران میں وہ اپنے گھروں سے نکل بھی نہ سکتے تھے سردی کی شدت سے وہ ٹھٹھرٹھٹھر کر مر گئے۔
وہاں کھنڈرات کے علاوہ کوئی چیز نظر نہ آتی تھی وہ تیز اور سخت ٹھنڈی ہوا قوم عاد پر آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل چلتی رہی اس واقعے سے ہمیں جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ کسی چیزکی ظاہری شکل و صورت سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے اور نہ اس پر تکیہ ہی کر لینا چاہیے بلکہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔
واللہ المستعان۔
(1)
حضرت عائشہ ؓ سے مذکورہ روایت وضاحت کے ساتھ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب آسمان کے افق پر کوئی بادل وغیرہ دیکھتے تو کام کاج ترک کر دیتے، اگر بادل چھٹ جاتے تو اللہ کی حمد کرتے اور اگر بارش برستی تو فرماتے: ’’اے اللہ! اسے ہمارے لیے نفع آور بنا دے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5099)
ایک روایت میں ہے کہ ایسے حالات میں رسول اللہ ﷺ گھبرا جاتے، کبھی اندر جاتے اور کبھی باہر، گھبراہٹ آپ کے چہرے سے نمایاں ہوتی۔
(صحیح مسلم، صلاة الاستسقاء، حدیث: (899) (2)
امام اوزاعی کی روایت کو عمل اليوم والليلة میں متصل سند سے بیان کیا گیا ہے۔
اس میں نافعا کے بجائے ھنیئا کے الفاظ ہیں جس کے معنی خوش گوار ہیں۔
عقیل کی روایت کو امام دارقطنی ؒ نے بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 668/2)
اس لیے ایسی چیز دیکھ کر جو تباہی وبربادی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
اللہ سے پناہ طلب کرنی چاہیے اور تندوتیز ہوا یا آندھی کے وقت حدیث میں گزرنے والی دعا پڑھنی چاہیے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہوا چلتی ہوئی دیکھتے تو کہتے: «اللهم إني أسألك من خيرها وخير ما فيها وخير ما أرسلت به وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها وشر ما أرسلت به» " اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں، اور جو خیر اس میں ہے وہ چاہتا ہوں اور جو خیر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اسے چاہتا ہوں، اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور جو شر اس میں چھپا ہوا ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں اور جو شر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں۔" [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3449]
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں، اور جو خیر اس میں ہے وہ چاہتا ہوں اور جو خیر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اسے چاہتا ہوں، اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور جو شر اس میں چھپا ہوا ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں اور جو شر اس کے ساتھ بھیجا گیا ہے اس سے پناہ مانگتاٰ ہوں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کے کوے کو دیکھ سکوں، آپ تو صرف تبسم فرماتے (ہلکا سا مسکراتے) تھے، آپ جب بدلی یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ کے چہرے پر دیکھا جاتا (آپ تردد اور تشویش میں مبتلا ہو جاتے) تو (ایک بار) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگ تو جب بدلی دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہو گی، اور آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ جب بدلی دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے سے ناگواری (گھبراہٹ اور پریشانی) جھلکتی ہے (اس کی وجہ کیا ہے؟) آپ نے فرمایا: " اے عائشہ! مجھے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5098]
1۔
زور سے کھل کھلا کر اور ازحد منہ کھول کر ہنسنا نامناسب اور وقار کے منافی ہے۔
چاہیے کہ ایسے مسکرانے کو اپنی عادت بنایا جائے جو سنت ہے۔
2۔
تیز ہوا (آندھی) یا بادل کو دیکھ کر اس کی خیر کی دعا کرنی چاہیے اور عذاب سے پناہ مانگنی چاہیے۔
جیسے کہ اوپر بیان ہوا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل کو دیکھتے تو (تردد و پریشانی کی وجہ سے) آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا، کبھی اندر تشریف لے جاتے کبھی باہر، کبھی آگے جاتے کبھی پیچھے، پھر جب بارش ہونے لگتی تو آپ کی یہ کیفیت ختم ہو جاتی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی اس کیفیت کا ذکر کیا جسے انہوں نے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اے عائشہ تجھے کیا معلوم؟ ہو سکتا ہے یہ وہی ہو جسے دیکھ کر قوم ہود نے کہا تھا: «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا بل هو ما۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3891]
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ ﷺ کے دل میں اللہ کا خوف بہت زیادہ تھا۔
مومن کو بھی اللہ کے عذاب سےڈرنا چاہیے۔
(2)
نبی کریمﷺ عالم الغیب نہیں تھے۔
علم غیب اللہ کے ساتھ ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان کے کسی کنارے سے اٹھتے بادل کو دیکھتے تو جس کام میں مشغول ہوتے اسے چھوڑ دیتے، یہاں تک کہ اگر نماز میں (بھی) ہوتے تو بادل کی طرف چہرہ مبارک کرتے، اور یہ دعا ما نگتے: «اللهم إنا نعوذ بك من شر ما أرسل به» " اے اللہ ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس چیز کے شر سے جو اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے " پھر اگر بارش شروع ہو جاتی تو فرماتے: «اللهم سيبا نافعا» " اے اللہ جاری اور فائدہ دینے والا پانی عنایت فرما "، دو یا تین مرتبہ یہی الفاظ دہراتے اور اگر اللہ تعالیٰ بادل ہٹا دیتا اور بار۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3889]
فوائد و مسائل:
(1)
بارش اللہ کی ر حمت ہے لیکن اللہ کا عذاب بھی ہوسکتی ہے۔
اس لئے بادل دیکھ کر اللہ کی رحمت کی اُمید کے ساتھ ساتھ اس کے عذاب سے پناہ بھی مانگنی چاہیے۔
(2)
بارش انسان کےلئے انتہائی ضروری ہونے کے باجود اس میں نقصان کا پہلو بھی موجود ہے۔
اس لئے بارش کے نفع مند ہونے کی دعا کرنا ضروری ہے۔
(3)
بادل کا برسے بغیر چھٹ جانا اس لئے اللہ کا انعام ہے۔
کہ اس کے عذاب ہونے کا خطرہ ٹل گیا-
(4)
بندے کوہر حال میں اللہ سے امید کے ساتھ ساتھ اللہ کا خوف بھی رکھنا چاہیے اور ان مواقع پر یہ عایئں پڑھنے کاالتزام کرنا چاہیے۔
اس حدیث میں بارش کے نزول کے وقت کی دعا کا ذکر ہے کہ جب بارش ہونا شروع ہو جائے تو ہمیں یہ دعا: «اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا» پڑھنی چاہیے تا کہ بارش نفع کا باعث بنے، نقصان اور عذاب بن کر نہ آئے۔ یہی بارش اگر مناسب وقت میں مناسب مقدار سے نازل ہو تو رحمت بن جاتی ہے، اور یہ بارش اگر غیر مناسب وقت میں غیر مناسب مقدار میں نازل ہوتو زحمت بن جاتی ہے۔