سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الزُّمَرِ باب: سورۃ الزمر سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ يَهُودِيٌّ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ : لَا وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ ، قَالَ : فَرَفَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَدَهُ فَصَكَّ بِهَا وَجْهَهُ ، قَالَ : تَقُولُ هَذَا وَفِينَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ سورة الزمر آية 68 فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ رَفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ ، فَلَا أَدْرِي أَرَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلِي أَمْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ ، وَمَنْ قَالَ : أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى فَقَدْ كَذَبَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک یہودی نے مدینہ کے بازار میں کہا : نہیں ، قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں میں سے چن لیا ، ( یہ سنا ) تو ایک انصاری شخص نے ہاتھ اٹھا کر ایک طمانچہ اس کے منہ پر مار دیا ، کہا : تو ایسا کہتا ہے جب کہ ( تمام انسانوں اور جنوں کے سردار ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں ۔ ( دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت : «ونفخ في الصور فصعق من في السموات ومن في الأرض إلا من شاء الله ثم نفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون» ” جب صور پھونکا جائے گا آواز کی کڑک سے سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے گا آسمانوں و زمین کے سبھی لوگ غشی کھا جائیں گے ، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا ، تو وہ کھڑے ہو کر دیکھتے ہوں گے ( کہ ان کے ساتھ ) کیا کیا جاتا ہے ؟ “ ( الزمر : ۶۹ ) ، پڑھی اور کہا : سب سے پہلا سر اٹھانے والا میں ہوں گا تو موسیٰ مجھے عرش کا ایک پایہ پکڑے ہوئے دکھائی دیں گے ، میں نہیں کہہ سکتا کہ موسیٰ نے مجھ سے پہلے سر اٹھایا ہو گا یا وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے «إلا من شاء الله» کہہ کر مستثنیٰ کر دیا ہے ۲؎ اور جس نے کہا : میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں اس نے غلط کہا ۳؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
۳؎: حقیقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل نبی ہیں، اور سیدالأنبیاء و الرسل ہیں، لیکن انبیاء کا آپس میں تقابل عام حالات میں صحیح نہیں ہے، بلکہ خلاف ادب ہے، اس کا تواضح و انکساری اور انبیاء و رسل کی غرض و احترام میں آپ نے ادب سکھایا اور اس طرح کے موازنہ پر تنقید فرمائی۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے مدینہ کے بازار میں کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں میں سے چن لیا، (یہ سنا) تو ایک انصاری شخص نے ہاتھ اٹھا کر ایک طمانچہ اس کے منہ پر مار دیا، کہا: تو ایسا کہتا ہے جب کہ (تمام انسانوں اور جنوں کے سردار) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں۔ (دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «ونفخ في الصور فصعق من في السموات ومن في الأرض إلا من شاء الله ثم نفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون» ” جب صور پھونکا جائے گا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3245]
وضاحت:
1؎:
جب صور پھونکا جائے گا آواز کی کڑک سے سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے گا آسمانوں و زمین کے سبھی لوگ غشی کھا جائیں گے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا، تو وہ کھڑے ہوکر دیکھتے ہوں گے (کہ ان کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ (الزمر: 69)۔
2؎:
روز حشر کا یہ واقعہ سنانے کہ آپ ﷺ موسیٰ علیہ السلام کی فضیلیت ذکر کرنا چاہتے ہیں نیز اپنی خاکساری کا اظہار فرمار ہے ہیں، اپنی خاکساری ظاہر کرنا دوسری بات ہے، اور فی نفسہ موسیٰ علیہ السلام کا تمام انبیاء سے افضل ہونا اور بات ہے البتہ اس طرح کسی نبی کا نام لیکر آپﷺ کے ساتھ مقابلہ کر کے آپﷺ کی فضیلت بیان کرنے والے کو تاؤ میں آکر مار دینا مناسب نہیں ہے، آپﷺ نے اس وقت یہی تعلیم دہی ہے۔
3؎:
حقیقت میں نبی اکرمﷺ سب سے افضل نبی ہیں، اور سیدالأنبیاء والرسل ہیں، لیکن انبیاء کا آپس میں تقابل عام حالات میں صحیح نہیں ہے، بلکہ خلاف ادب ہے، اس کا تواضع و انکساری اور انبیاء و رسل کی غرض و احترام میں آپﷺ نے ادب سکھایا اور اس طرح کے موازنہ پر تنقید فرمائی۔
یا یہ حکم اس وقت کاہے جب آپ کویہ نہیں بتلایا گیاتھاکہ آپ جملہ پیغمبروں سےافضل ہیں۔
یا یہ مطلب ہےکہ اپنی رائے سےفضیلت نہ دو جتنا شرع میں وارد ہواہے اتناہی کہو۔
حشر میں بےہوش نہ ہونے والوں کا استثنا اس آیت میں ہے۔
﴿ونُفِخَ فِى الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فى السّمواتِ وَمَن فِى الاَرضِ اِلَّا من شآء الله﴾ (الزمر: 68)
یعنی جس وقت صور پھونکا جائےگا توسب اہل محشر بےہوش ہوجائیں گےمگر جس کو اللہ چاہے گاوہ بےہوش نہ ہوگا۔
ممکن ہےکہ حضرت موسیٰ بھی اس استثنا میں شامل ہوں۔
1۔
مذکورہ واقعہ حضرت موسیٰ ؑ سے متعلق ہے لیکن آپ کی زندگی کے بعد پیش آیا۔
رسول اللہ ﷺ کے ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ مجھے دوسرے انبیائے کرام پر اس طرح فضیلت نہ دو کہ ان کی توہین کا پہلو نکلے۔
2۔
حشر میں بے ہوش نہ ہونے والوں کا استثنا درج ذیل آیت میں ہے۔
’’اور صورپھونکا جائے گا تو آسمان و زمین کی تمام مخلوق بے ہوش ہوجائے گی مگر وہ جسے اللہ تعالیٰ چاہے۔
‘‘ (الزمر: 68)
ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ بھی اس استثناء میں شامل ہوں۔
واللہ أعلم۔
استثناء کا ذکر اس آیت میں ہے (فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ) (سوره زمر)
باب کا مطلب آیت کے لفظ إلا ماشاء اللہ سے نکلا جن سےجبرئیل، میکائیل، اسرافیل، عزرائیل، رضوان، خازن بہشت، حاملان عرش مراد ہیں یہ بے ہوش نہ ہوں گے۔
1۔
حضرت انبیاء علیہم السلام کے درجات میں باہمی تفاوت کو خود اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
’’یہ رسول ہم نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت دی ان میں سے کچھ تو وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور کچھ وہ ہیں جن کے درجات بلند کیے۔
‘‘ (البقرة: 253)
نیز فرمایا: ’’ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی ہے۔
‘‘ (بني إسرائیل 55)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سرداروہوں گا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 5940(2278)
مذکورہ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تواضع اور انکسار کے طور پر فرمایا یا اس کا مطلب یہ ہے کہ میری اس طرح فضیلت ثابت نہ کرو جس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توہین کا پہلو نمایاں ہو۔
2۔
اس حدیث کے آخر میں ایک استثناء کا ذکر ہے جس کی وضاحت درج ذیل آیت کریمہ میں ہے۔
’’اور صور میں پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانی اور زمین میں مخلوق ہو گی۔
سب بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے مگر جسے اللہ (بچانا)
چاہے گا۔
‘‘ (الزمر39۔
68)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ایسی مخلوق بھی ہو گی جو بے ہوش نہیں ہو گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس بے ہوشی سے مستثنیٰ قرار دیا ہے وہ بھی اس صورت میں کہ شاید وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے ہوں یا وہ بے ہوش ہوئے ہی نہ ہوں اس لیے کہ وہ دنیا میں ایک بار بے ہوش ہو چکے تھے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے مشیت الٰہی کو ثابت کیا ہے۔
کہ وہ عام ہے اور کائنات کی ہر چیز کو شامل ہے۔
آپ نے یہ ازراہ تواضع فرمایا ورنہ آپ سارے انبیاء سے افضل ہیں صلی اللہ علیه وسلم۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق جس استثنیٰ کا ذکر کیا ہے وہ درج ذیل آیت کریمہ میں ہے: ’’اور جب صور پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں موجود مخلوق ہے سب بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے مگر جسے اللہ (بچانا)
چاہے، پھر جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو فوراً سب کے سب اٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔
‘‘ (الزمر: 68)
اس حدیث سے امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد بھی ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں صور پھونکے جانے کی طرف واضح اشارہ ہے۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ایسی مخلوق بھی ہو گی جو پہلے نفخے کے بعد بے ہوش نہیں ہو گی۔
بہرحال انسانوں میں سے کوئی بھی اس بے ہوشی سے محفوظ نہیں رہے گا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوش ہوں گے تو دوسرے انسان کیسے بچ سکتے ہیں، البتہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آپ نے مستثنیٰ کیا ہے۔
وہ بھی اس صورت میں کہ شاید وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے ہوں یا بے ہوش ہوئے ہی نہ ہوں، اس لیے کہ وہ دنیا میں کوہ طور پر ایک بار بے ہوش ہو چکے تھے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روایت کے مطابق فرمایا: ‘‘مجھے معلوم نہیں کہ کوہ طور پر انہیں بے ہوش کر کے ان کا حساب چکا دیا گیا تھا یا وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے ہوں۔
‘‘ (صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3414) (3)
رسول اللہ نے یہودی کو اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے یہ گفتگو بطور تواضع فرمائی تھی ورنہ احادیثِ شفاعت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے افضل ہیں۔
واللہ أعلم
«...لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَصْعَقُ مَعَهُمْ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ جَانِبَ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَوْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ .»
”۔۔۔مجھے موسیٰ علیہ السلام پر ترجیح نہ دو۔ لوگ قیامت کے دن بیہوش کر دیئے جائیں گے۔ میں بھی بیہوش ہو جاؤں گا۔ بے ہوشی سے ہوش میں آنے والا سب سے پہلا شخص میں ہوں گا، لیکن موسیٰ علیہ السلام کو عرش الٰہی کا کنارہ پکڑے ہوئے پاؤں گا۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام بھی بیہوش ہونے والوں میں ہوں گے اور مجھ سے پہلے انہیں ہوش آ جائے گا۔ یا اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں میں رکھا ہے جو بے ہوشی سے مستثنیٰ ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْخُصُومَاتِ: 2411]
منکرین حدیث کا اشکال،کیا وحی مشکوک ہوتی ہے؟ یہ حدیث صحیح بخاری میں سات مقامات پر ہے: [2411، 3408، 4813، 3414، 6517، 6518، 7472]
اسے امام بخاری کے علاوہ درج ذیل محدثین نے بھی روایت کیا ہے:
مسلم بن الحجاج [صحيح مسلم: 2373]
طحاوي [مشكل الآثار، طبعه قديمه 1؍445، معاني الآثار 4؍316]
ابويعليٰ [المسند: 6643]
النسائي [السنن الكبريٰ: 7758، 11457]
ابوداود [السنن: 4671]
ترمذي [السنن: 3245 وقال ”هذا حديث حسن صحيح“]
ابن ماجه [السنن: 4274]
البغوي [شرح السنة 15؍106 ح4302 وقال: ”هذا حديث متفق على صحته“]
البيهقي [دلائل النبوة 5؍492]
امام بخاری رحمہ اللہ سے پہلے امام أحمد رحمہ اللہ نے اسے روایت کیا ہے، دیکھئیے:
مسند أحمد بن حنبل [2؍264، 450]
یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے درج ذیل جلیل القدر ثقہ تابعین نے بیان کی ہے۔
① سعید بن المسیب
② ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن
③ عبدالرحمٰن الاعرج
④ عامر الشعبی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ اسے سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ نے بھی روایت کیا ہے:
[صحيح بخاري: 2412]
[و صحيح مسلم: 2374]
[و مصنف ابن ابي شيبه 526/11 ح 31828]
↰ معلوم ہوا کہ یہ روایت بالکل صحیح ہے، لہٰذا منکر حدیث کا اس سے ”کیا وحی مشکوک ہوتی ہے؟“ کشید کرنا باطل ہے۔
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ”میں نہیں جانتا۔“ إلخ قرآن کریم کی درج ذیل آیت کے مطابق ہے۔ «وَلَا اَعْلَمُ الْغَيْبَ» (آپ کہہ دیں کہ۔۔۔) ”اور میں غیب نہیں جانتا۔“ [سورة الانعام: 50]
✿ نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ «وَإِنْ أَدْرِيْ أَقَرِيْبٌ أَمْ بَعِيْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ» [سورة الانبياء: 109]
ترجمہ از شاہ ولی اللہ الدہلوی: «ونمي دانم كه نزديك است يا دور است آنچه وعده داده ميشويد» [ص399]
ترجمہ از شاہ عبدالقادر: ”اور میں نہیں جانتا، نزدیک ہے یا دور ہے، جو تم کو وعدہ ملتا ہے۔“ [ص399]
ترجمہ از أحمد رضا خان بریلوی: ”میں کیا جانوں کہ پاس ہے یا دور ہے وہ جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے۔“ [ص531]
↰ معلوم ہوا کہ منکرین حدیث حضرات، احادیث صحیحہ کی مخالفت کے ساتھ ساتھ قرآنی آیات کے بھی مخالف ہیں۔ ان کے پاس نہ حدیث ہے اور نہ قرآن ہے، بس وہ اپنی خواہشات اور بعض نام نہاد ”مفکرین قرآن“ کے خود ساختہ نظریات و تحریفات کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ مرنے سے پہلے پہلے رب کریم کی طرف سے مہلت ہے، جو شخص توبہ کرنا چاہے کر لے ورنہ یاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے باغیوں اور سرکشوں کے لئے جہنم کی دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ اے اللہ! تو ہمیں اپنی پناہ میں رکھ۔ اے اللہ! تو ہمیں کتاب وسنت پر ثابت قدم رکھ اور اسی پر ہمارا خاتمہ فرما۔ اے اللہ! ہمارے سارے گناہ معاف فرما دے، آمین۔ [انتهٰي] (13 ذوالقعدہ 1426ھ)
اس پر بھی اس مسلمان نے مجھ کو تھپڑ مارا۔
آپ غصے ہوئے اور مسلمان سے پوچھا تو نے اس کو کیوں تھپڑ مارا۔
اس پر اس مسلمان نے یہ واقعہ بیان کیا۔
مگر آنحضرت ﷺ نے یہ پسند نہیں فرمایا کہ کسی نبی کی شان میں ایک رائی برابر بھی تنقیص کا کوئی پہلو اختیار کیا جائے۔
اس حدیث میں امام بخاری ؒ نے عنوان کے دوسرے جز کو ثابت کیا ہے کہ ایک مسلمان کسی بھی غیر مسلم پر اور کوئی بھی غیر مسلم کسی بھی مسلمان پر اسلامی عدالت میں دعویٰ دائر کر سکتا ہے۔
انصاف طلبی کے لیے مدعی اور مدعا علیہ کا ہم مذہب ہونا کوئی شرط نہیں، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ اس یہودی نے کہا: اللہ کے رسول! میں ایک ذمی کی حیثیت سے آپ کی امان میں رہتا ہوں، اس کے باوجود مجھے مسلمان نے تھپڑ مارا ہے۔
آپ ناراض ہوئے اور مسلمان کو ڈانٹ پلائی۔
جب مسلمان نے سارا واقعہ بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس امر کو پسند نہیں فرمایا کہ کسی نبی کی شان میں ایک رائی کے برابر بھی تنقیص کا کوئی پہلو اختیار کیا جائے۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اب مجھے معلوم نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام بھی بے ہوش ہونے والوں میں ہوں گے اور مجھ سے پہلے انھیں ہوش آ جائے گا یا اللہ تعالیٰ نے انھیں ان لوگوں میں رکھا ہے جو بے ہوشی سے مستثنیٰ ہیں۔
‘‘ (صحیح البخاري، الخصومات، حدیث: 2411)
بعض روایات میں یہ بھی صراحت ہے کہ ان کے لیے کوہ طور کی بے ہوشی کو کافی سمجھ لیا جائے گا، اس لیے وہ نفخہ صور کے وقت بے ہوش نہیں ہوں گے۔
(صحیح البخاري، الخصومات، حدیث: 2412)
اس سے وہ صور مراد ہے جسے منہ میں لئے ہوئے فرشتہ کھڑا ہے کہ کب حکم ہو تو اس میں پھونک مار دے اور قیامت بپا ہو جائے۔
اسی طرح دوبارہ زندہ کرنے کے لئے بھی صور پھونکا جائے گا۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’صور سینگ کو کہتے ہیں جس میں پھونک ماری جائے گی۔“
[سنن ابي داود: 4742 وسنده حسن وحسنه الترمذي: 3244 وصححه ابن حبان: 570 2 والحاكم 2/ 506، 4/ 560 ووافقه الذهبي]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’صور سینگ کی طرح ہے جس میں پھونک ماری جائے گی۔“
[مسند مسدد/ المطالب العاليه: 4535 وسنده صحيح وقال ابن حجر: ’’صحيح موقوف“ كتاب الاهوال لابن ابي الدنيا: 47 وسنده صحيح]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب سے صور پھونکنے والے فرشتے کو مقرر کیا گیا ہے، اس نے آنکھ نہیں جھپکائی، وہ اس خوف سے عرش کی طرف دیکھ رہا ہے کہ کہیں نظر جھپکانے سے پہلے حکم نہ دے دیا جائے، اس کی آنکھیں دو ستاروں کی طرح چمک رہی ہیں۔“
[كتاب العظمة 3/ 843، 844 ح 391 وسنده حسن]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت موقوفاً مروی ہے۔ دیکھئے کتاب: [الاهوال: 50 وسنده حسن]
صور میں دو دفعہ پھونک ماری جائے گی: ایک دفعہ قیامت کے لئے اور دوسری دفعہ دوبارہ زندہ کرنے کے لئے۔ دیکھئے سورۃ الزمر (68) صحیح بخاری (4814) اور صحیح مسلم (2955) آیتِ مذکورہ میں نفخۂ ثانیہ (دوسری دفعہ صور پھونکا جانا) مراد ہے۔
قیامت کے دن ہر گر وہ اپنے رسول یا اپنے امام و سربراہ کے ساتھ آئے گا جیسا کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے۔
قیامت اچانک آئے گی جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
اصل مضمون کے لئے دیکھئے الحدیث حضرو (شمارہ 42 ص 65)
پہلے نفخہ کا اثر درندوں اور مردوں دونوں پر ہو گا، زندے فوت ہو جائیں گے اور مردوں پر بے ہوشی اور گھبراہٹ طاری ہو گی، انبیاء کو برزخی زندگی حاصل ہے، جب قیامت کے وقوع کے لیے صور میں پھونکا جائے گا تو اس سے برزخی زندگی بھی ختم ہو جائے گی، اس لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے نفخہ سے سب سے پہلے ہوش میں آئیں گے تو موسیٰ علیہ السلام کو عرش کے پائے کو پکڑتے ہوئے دیکھیں گے اور اس مسئلہ میں متردد ہوں گے، موسیٰ علیہ السلام پہلے ہوش میں آ گئے ہیں یا طور کی بے ہوشی کے سبب ان کو اس صعقہ سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، اس طرح انہیں جزئی فضیلت حاصل ہے۔