حدیث نمبر: 3244
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَسْلَمَ الْعِجْلِيِّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ أَعْرَابِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الصُّورُ ؟ قَالَ : " قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک اعرابی نے کہا : اللہ کے رسول ! صور کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک سینگ ( بھوپو ) ہے جس میں پھونکا جائے گا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے اور ہم اسے صرف سلیمان تیمی کی روایت سے جانتے ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: تو آواز گونجتی اور دور تک جاتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3244
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (1080)
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 2430 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2430 | سنن ابي داود: 4742

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الزمر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے کہا: اللہ کے رسول! صور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: " ایک سینگ (بھوپو) ہے جس میں پھونکا جائے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3244]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تو آواز گونجتی اور دور تک جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3244 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4742 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جنت اور جہنم کی تخلیق کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " «صور» ایک سنکھ ہے، جس میں پھونک ماری جائے گی۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4742]
فوائد ومسائل:
حضرت اسرافیل ؑ اپنے منہ میں صور لیے امرالہٰی کے منتظرکھڑے ہیں، جب حکم ہو گا تو وہ اس میں پھونک ماریں گے اورساری دنیا فنا ہو جائے گی، پھر اللہ کے حکم سے دوبارہ پھونکیں گے تو سب جی اٹھیں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4742 سے ماخوذ ہے۔