حدیث نمبر: 3237
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقْرَأُ : " " يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا سورة الزمر آية 53 وَلَا يُبَالِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ يَرْوِي عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ ، وَأُمُّ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّةُ هِيَ أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آیت «يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله إن الله يغفر الذنوب جميعا» ” اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے ( یعنی گناہ کیے ہیں ) اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوؤ ، اللہ سبھی گناہ معاف کر دیتا ہے “ ( الزمر : ۵۳ ) ، پڑھتے ہوئے سنا ہے ۔ اللہ کو کوئی پروا نہیں ہوتی ( کہ اللہ کی اس چھوٹ اور مہربانی سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے اور کون محروم رہ رہا ہے ) ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- ہم اسے صرف ثابت کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ شہر بن حوشب سے روایت کرتے ہیں ، ۳- شہر بن حوشب ام سلمہ انصاریہ سے روایت کرتے ہیں ، اور ام سلمہ انصاریہ اسماء بنت یزید ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: احمد کی روایت میں «لا يبالي» کے بعد آیت کا اگلا ٹکڑا بھی ہے «إن الله هو الغفور الرحيم» (الشورى: ۵) صاحب تحفہ الأحوذی فرماتے ہیں: شاید پہلے «لا يبالي» کا لفظ بھی آیت میں شامل تھا جو بعد میں منسوخ ہو گیا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3237
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 15771) (ضعیف الإسناد) (سند میں ’’ شہر بن حوشب ‘‘ ضعیف ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الزمر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آیت «يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله إن الله يغفر الذنوب جميعا» اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے (یعنی گناہ کیے ہیں) اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوؤ، اللہ سبھی گناہ معاف کر دیتا ہے (الزمر: ۵۳)، پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ اللہ کو کوئی پروا نہیں ہوتی (کہ اللہ کی اس چھوٹ اور مہربانی سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے اور کون محروم رہ رہا ہے) ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3237]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے (یعنی گناہ کیے ہیں) اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوؤ، اللہ سبھی گناہ معاف کر دیتا ہے (الزمر: 53)

2؎:
احمد کی روایت میں’’ لَايُبَالِي‘‘ کے بعد آیت کا اگلا ٹکڑ ابھی ہے ﴿إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ (الشورى: 5) صاحب تحفہ الأحوذی فرماتے ہیں: شاید پہلے ’’لایبالی‘‘ کا لفظ بھی آیت میں شامل تھا جو بعد میں منسوخ ہو گیا۔

نوٹ:
(سند میں ’’شہر بن حوشب‘‘ ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3237 سے ماخوذ ہے۔