سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الزُّمَرِ باب: سورۃ الزمر سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ سورة الزمر آية 31 ، قَالَ الزُّبَيْرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُكَرَّرُ عَلَيْنَا الْخُصُومَةُ بَعْدَ الَّذِي كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا ، قَالَ : " نَعَمْ ، فَقَالَ : إِنَّ الْأَمْرَ إِذًا لَشَدِيدٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما اپنے باپ ( زبیر ) سے روایت کرتے ہیں کہ` جب آیت «ثم إنكم يوم القيامة عند ربكم تختصمون» ” پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس ( توحید و شرک کے سلسلے میں ) جھگڑ رہے ہو گے “ [الزمر: 31] ، نازل ہوئی تو زبیر بن عوام رضی الله عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! اس دنیا میں ہمارا آپس میں جو لڑائی جھگڑا ہے اس کے بعد بھی دوبارہ ہمارے درمیان ( آخرت میں ) لڑائی جھگڑے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں “ ، انہوں نے کہا : پھر تو معاملہ بڑا سخت ہو گا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما اپنے باپ (زبیر) سے روایت کرتے ہیں کہ جب آیت «ثم إنكم يوم القيامة عند ربكم تختصمون» ” پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس (توحید و شرک کے سلسلے میں) جھگڑ رہے ہو گے “ [الزمر: 31]، نازل ہوئی تو زبیر بن عوام رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اس دنیا میں ہمارا آپس میں جو لڑائی جھگڑا ہے اس کے بعد بھی دوبارہ ہمارے درمیان (آخرت میں) لڑائی جھگڑے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں “، انہوں نے کہا: پھر تو معاملہ بڑا سخت ہو گا۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3236]
وضاحت:
1؎:
پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس توحید و شرک کے سلسلے میں) جھگڑ رہے ہو گے (الروم: 31)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کی تفسیر بھی سمجھا کرتے تھے۔ دین اسلام ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ حدیث نبوی قرآن مجید کی تشریح و توضیح ہے، حدیث مبارکہ کے بغیر قرآن کو سمجھنا بہت بڑی گمراہی ہے۔ «أطيــعـوا الـرسـول» کا بھی یہی تقاضا ہے کہ قرآن حکیم کی طرح حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی مستقل اپنی اتھارٹی اور مقام رکھتی ہے۔ جو حدیث کا منکر ہے، وہ حقیقت میں قرآن کا منکر ہے کیونکہ حدیث ہی نے یہ بتایا ہے کہ یہ قرآن ہے ہے۔