حدیث نمبر: 3230
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جَنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ : " وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْبَاقِينَ سورة الصافات آية 77 قَالَ : حَامٌ ، وَسَامٌ ، وَيَافِثُ " ، كَذَا قَالَ أَبُو عِيسَى : يُقَالُ : يَافِتُ ، وَيَافِثُ بِالتَّاءِ وَالثَّاءِ ، وَيُقَالُ : يَفِثُ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «وجعلنا ذريته هم الباقين» ” ہم نے نوح ہی کی اولاد کو باقی رکھا “ ( الصافات : ۷۷ ) ، کی تفسیر میں فرمایا : ” ( نوح کے تین بیٹے ) حام ، سام اور یافث تھے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف سعید بن بشیر کی روایت سے ہی جانتے ہیں ، ۲- یافت «ت» سے اور یافث «ث» سے دونوں طرح سے کہا جاتا ہے «یفث» بھی کہا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3230
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: (3230) إسناده ضعيف, سعيد بن بشير: ضعيف (تقدم:2443)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4605) (ضعیف الإسناد) (حسن بصری کے سمرہ رضی الله عنہ سے سماع میں سخت اختلاف ہے، نیز حسن مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الصافات سے بعض آیات کی تفسیر۔`
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «وجعلنا ذريته هم الباقين» ہم نے نوح ہی کی اولاد کو باقی رکھا (الصافات: ۷۷)، کی تفسیر میں فرمایا: (نوح کے تین بیٹے) حام، سام اور یافث تھے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3230]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ہم نے نوح ہی کی اولاد کو باقی رکھا (الصافات: 77)

نوٹ:
(حسن بصری کے سمرہ رضی اللہ عنہ سے سماع میں سخت اختلاف ہے، نیز حسن مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3230 سے ماخوذ ہے۔