حدیث نمبر: 3229
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَى مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ سورة الصافات آية 147 قَالَ : " عِشْرُونَ أَلْفًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت کریمہ : «وأرسلناه إلى مائة ألف أو يزيدون» ” ہم نے انہیں ( یعنی یونس کو ) ایک لاکھ بلکہ اس سے کچھ زیادہ کی طرف بھیجا “ ( الصافات : ۷۷ ) ، کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” ایک لاکھ بیس ہزار تھے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3229
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: (3229) إسناده ضعيف, رجل: مجھول
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 15) (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الصافات سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت کریمہ: «وأرسلناه إلى مائة ألف أو يزيدون» ہم نے انہیں (یعنی یونس کو) ایک لاکھ بلکہ اس سے کچھ زیادہ کی طرف بھیجا (الصافات: ۷۷)، کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ایک لاکھ بیس ہزار تھے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3229]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ہم نے انہیں (یعنی یونسؑ کو) ایک لاکھ بلکہ اس سے کچھ زیادہ کی طرف بھیجا (الصافات: 77)

نوٹ:
(اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3229 سے ماخوذ ہے۔