سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ سَبَإٍ باب: سورۃ سبا سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ لِمِثْلِ هَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رَأَيْتُمُوهُ ؟ " قَالُوا : كُنَّا نَقُولُ : يَمُوتُ عَظِيمٌ أَوْ يُولَدُ عَظِيمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّهُ لَا يُرْمَى بِهِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ لَهُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ إِلَى هَذِهِ السَّمَاءِ ، ثُمَّ سَأَلَ أَهْلُ السَّمَاءِ السَّادِسَةِ أَهْلَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ : مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ قَالَ : فَيُخْبِرُونَهُمْ ، ثُمَّ يَسْتَخْبِرُ أَهْلُ كُلِّ سَمَاءٍ حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ أَهْلَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، وَتَخْتَطِفُ الشَّيَاطِينُ السَّمْعَ فَيُرْمَوْنَ فَيَقْذِفُونَهُ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يُحَرِّفُونَهُ وَيَزِيدُونَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے کہ یکایک ایک تارہ ٹوٹا جس سے روشنی پھیل گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا : ” زمانہ جاہلیت میں جب تم لوگ ایسی کوئی چیز دیکھتے تو کیا کہتے تھے ؟ “ انہوں نے کہا : ہم کہتے تھے کوئی بڑا آدمی مرے گا یا کوئی بڑی شخصیت جنم لے گی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کسی کے مرنے کی وجہ سے نہیں ٹوٹتا ، بلکہ اللہ بزرگ و برتر جب کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے تسبیح و تہلیل کرتے ہیں ، پھر ان سے قریبی آسمان کے فرشتے تسبیح کرتے ہیں ، پھر ان سے قریبی ، اس طرح تسبیح کا یہ غلغلہ ہمارے اس آسمان تک آ پہنچتا ہے ، چھٹے آسمان والے فرشتے ساتویں آسمان والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں : تمہارے رب نے کیا کہا ہے ؟ ( کیا حکم صادر فرمایا ہے ؟ ) تو وہ انہیں بتاتے ہیں ، پھر اسی طرح ہر نیچے آسمان والے اوپر کے آسمان والوں سے پوچھتے ہیں ، اس طرح بات دنیا سے قریبی آسمان والوں تک آ پہنچتی ہے ۔ اور کی جانے والی بات چیت کو شیاطین اچک لیتے ہیں ۔ ( جب وہ اچکنے کی کوشش کرتے ہیں تو سننے سے باز رکھنے کے لیے تارہ پھینک کر ) انہیں مارا جاتا ہے اور وہ اسے ( اچکی ہوئی بات کو ) اپنے یاروں ( کاہنوں ) کی طرف پھینک دیتے ہیں تو وہ جیسی ہے اگر ویسی ہی اسے پہنچاتے ہیں تو وہ حق ہوتی ہے ، مگر لوگ اسے بدل دیتے اور گھٹا بڑھا دیتے ہیں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے کہ یکایک ایک تارہ ٹوٹا جس سے روشنی پھیل گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا: ” زمانہ جاہلیت میں جب تم لوگ ایسی کوئی چیز دیکھتے تو کیا کہتے تھے؟ “ انہوں نے کہا: ہم کہتے تھے کوئی بڑا آدمی مرے گا یا کوئی بڑی شخصیت جنم لے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ کسی کے مرنے کی وجہ سے نہیں ٹوٹتا، بلکہ اللہ بزرگ و برتر جب کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے تسبیح و تہلیل کرتے ہیں، پھر ان سے قریبی آسم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3224]
وضاحت:
1؎:
مؤلف نے یہ حدیث سابقہ آیت ہی کی تفسیرمیں ذکر کی ہے۔
(1)
رُمِيَ بِنَجْمٍ: ستارہ ٹوٹتا محسوس ہوا ہے، گویا ستارہ مارا گیا ہے۔
(2)
سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ: حاملین عرش سر تسلیم خم کرتے ہوئے اور اللہ کے حکم وفیصلے کو عیب ونقص سے مبرا مانتے ہوئے تسبیح کہتے ہیں۔
(3)
يُرْمَوْنَ بِهِ: اجرام فلکیہ یا آسمانی کواکب کے چھوٹے چھوٹے اجزاء شہاب ثاقب ہیں اور ان سے پھوٹنے والی روشنی، جو ان کی تیز رفتاری اور فضائی مادہ کے ٹکراؤ سے پیدا ہوتی ہے۔
اس سے شیطانوں کو مارا جاتا ہے۔
(4)
يَقْرِفُونَ: وہ ملاوٹ یا آمیزش کرتے ہیں اور اگر یرقون ہوتو معنی ہوگا بڑھا چڑھا کے پیش کرتے ہیں، اس طرح اس میں اپنی طرف سے اضافہ کرتے ہیں، گویا يزيدون اس کی تفسیر ہے۔