سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ سَبَإٍ باب: سورۃ سبا سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، وغير واحد ، قَالُوا : أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَبْرَةَ النَّخَعِيُّ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْمُرَادِيِّ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أُقَاتِلُ مَنْ أَدْبَرَ مِنْ قَوْمِي بِمَنْ أَقْبَلَ مِنْهُمْ ؟ فَأَذِنَ لِي فِي قِتَالِهِمْ وَأَمَّرَنِي ، فَلَمَّا خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ ، سَأَلَ عَنِّي : " مَا فَعَلَ الْغُطَيْفِيُّ ؟ " فَأُخْبِرَ أَنِّي قَدْ سِرْتُ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي فَرَدَّنِي ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " ادْعُ الْقَوْمَ ، فَمَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمْ فَاقْبَلْ مِنْهُ ، وَمَنْ لَمْ يُسْلِمْ فَلَا تَعْجَلْ حَتَّى أُحْدِثَ إِلَيْكَ " ، قَالَ : وَأُنْزِلَ فِي سَبَإٍ مَا أُنْزِلَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا سَبَأٌ أَرْضٌ أَوِ امْرَأَةٌ ؟ قَالَ : " لَيْسَ بِأَرْضٍ وَلَا امْرَأَةٍ ، وَلَكِنَّهُ رَجُلٌ وَلَدَ عَشْرَةً مِنَ الْعَرَبِ فَتَيَامَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ وَتَشَاءَمَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ ، فَأَمَّا الَّذِينَ تَشَاءَمُوا : فَلَخْمٌ ، وَجُذَامُ ، وَغَسَّانُ ، وَعَامِلَةُ ، وَأَمَّا الَّذِينَ تَيَامَنُوا : فَالْأُزْدُ ، وَالْأَشْعَرِيُّونَ ، وَحِمْيَرٌ ، وَكِنْدَةُ ، وَمَذْحِجٌ ، وَأنْمَارٌ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا أَنْمَارُ ؟ قَالَ : " الَّذِينَ مِنْهُمْ خَثْعَمُ ، وَبَجِيلَةُ " ، وَرُوِيَ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .´فروہ بن مسیک مرادی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں اپنی قوم کے ان لوگوں کے ساتھ مل کر جو ایمان لے آئے ہیں ان لوگوں سے نہ لڑوں جو ایمان نہیں لائے ہیں ، تو آپ نے مجھے ان سے لڑنے کی اجازت دے دی ، اور مجھے میری قوم کا امیر بنا دیا ، جب میں آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا تو آپ نے میرے متعلق پوچھا کہ غطیفی نے کیا کیا ؟ آپ کو بتایا گیا کہ میں تو جا چکا ہوں ، مجھے لوٹا لانے کے لیے میرے پیچھے آپ نے آدمی دوڑائے ، تو میں آپ کے پاس آ گیا ، آپ اس وقت اپنے کچھ صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے ، آپ نے فرمایا : ” لوگوں کو تم دعوت دو ، تو ان میں سے جو اسلام لے آئے اس کے اسلام و ایمان کو قبول کر لو ، اور جو اسلام نہ لائے تو اس کے معاملے میں جلدی نہ کرو ، یہاں تک کہ میں تمہیں نیا ( و تازہ ) حکم نہ بھیجوں “ ۔ راوی کہتے ہیں : سبا کے متعلق ( کلام پاک میں ) جو نازل ہوا سو ہوا ( اسی مجلس کے ) ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول ! سبا کیا ہے ، سبا کوئی سر زمین ہے ، یا کسی عورت کا نام ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ نہ کوئی ملک ہے اور نہ ہی وہ کسی عورت کا نام بلکہ سبا نام کا ایک عربی شخص تھا جس کے دس بچے تھے ، جن میں سے چھ کو اس نے باعث خیر و برکت جانا اور چار سے بدشگونی لی ( انہیں منحوس جانا ) تو جنہیں اس نے منحوس سمجھا وہ : لخم ، جذام ، غسان اور عاملہ ہیں ، اور جنہیں مبارک سمجھا وہ ازد ، اشعری ، حمیر ، مذحج ، انمار اور کندہ ہیں “ ، ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! انمار کون سا قبیلہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اسی قبیلہ کی شاخیں خشعم اور بجیلہ ہیں “ ۔ یہ حدیث ابن عباس سے مروی ہے ، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔