سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الأَحْزَابِ باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3211
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : مَا أَرَى كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا لِلرِّجَالِ ، وَمَا أَرَى النِّسَاءَ يُذْكَرْنَ بِشَيْءٍ ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ :إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ سورة الأحزاب آية 35 الْآيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَإِنَّمَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام عمارہ انصاریہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا : کیا بات ہے میں ہر چیز مردوں ہی کے لیے دیکھتی ہوں اور عورتوں کا ( قرآن میں ) کہیں ذکر نہیں ملتا ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «إن المسلمين والمسلمات والمؤمنين والمؤمنات» آخر آیت تک ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ، اور یہ حدیث صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے ۔