حدیث نمبر: 3210
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ البَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيّ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ سورة الأحزاب آية 40 ، قَالَ : مَا كَانَ لِيَعِيشَ لَهُ فِيكُمْ وَلَدٌ ذَكَرٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ عامر شعبی اللہ کے اس قول «ما كان محمد أبا أحد من رجالكم» ” ( لوگو ! ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نہیں “ ( الاحزاب : ۴۰ ) ، کے بارے میں کہتے ہیں : اس سے مراد زندہ نہ رہنے والی نرینہ اولاد ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: ورنہ نرینہ اولاد تو آپ کے یہاں بھی پیدا ہوئی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3210
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف مقطوع
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف (ضعیف الإسناد) (سند میں ’’ مسلمہ بن علقمہ ‘‘ صدوق ہیں، لیکن ان سے احادیث میں اوہام پائے جاتے ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر۔`
‏‏‏‏ عامر شعبی اللہ کے اس قول «ما كان محمد أبا أحد من رجالكم» (لوگو!) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نہیں (الاحزاب: ۴۰)، کے بارے میں کہتے ہیں: اس سے مراد زندہ نہ رہنے والی نرینہ اولاد ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3210]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎: (لوگو!) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد(ﷺ) نہیں (الأحزاب: 40)

2؎:
ورنہ نرینہ اولاد تو آپ کے یہاں بھی پیدا ہوئی ہے۔

نوٹ:
(سند میں ’’مسلمہ بن علقمہ‘‘ صدوق ہیں، لیکن ان سے احادیث میں اوہام پائے جاتے ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3210 سے ماخوذ ہے۔