حدیث نمبر: 3206
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمُرُّ بِبَابِ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ إِذَا خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ ، يَقُولُ : الصَّلَاةَ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ : إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا سورة الأحزاب آية 33 " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی الله عنہا کے دروازے کے سامنے سے چھ مہینے تک گزرتے رہے ، جب فجر کے لیے نکلتے تو آپ کا معمول تھا کہ آپ آواز دیتے «الصلاة يا أهل البيت» ” اے میرے گھر والو ! نماز فجر کے لیے اٹھو “ «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ” اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری نجاست تم سے دور کر دے اور تمہیں پورے طور پر پاک کر دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے ہی جانتے ہیں ، ۲- اس باب میں ابوالحمراء ، معقل بن یسار اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3206
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف المصدر نفسه //، الروض النضير (976 و 1190) // , شیخ زبیر علی زئی: (3206) إسناده ضعيف, علي بن زيد: ضعيف (تقدم:589)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 1099) (ضعیف) (سند میں ’’ علی بن زید بن جدعان ‘‘ ضعیف ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی الله عنہا کے دروازے کے سامنے سے چھ مہینے تک گزرتے رہے، جب فجر کے لیے نکلتے تو آپ کا معمول تھا کہ آپ آواز دیتے «الصلاة يا أهل البيت» اے میرے گھر والو! نماز فجر کے لیے اٹھو «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری نجاست تم سے دور کر دے اور تمہیں پورے طور پر پاک کر دے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3206]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’علی بن زید بن جدعان‘‘ ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3206 سے ماخوذ ہے۔