سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الأَحْزَابِ باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا صَاعِدٌ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، أَخْبَرَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، قَالَ : قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ سورة الأحزاب آية 4 مَا عَنَى بِذَلِكَ ؟ قَالَ : قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يُصَلِّي ، فَخَطَرَ خَطْرَةً ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ مَعَهُ : أَلَا تَرَى أَنَّ لَهُ قَلْبَيْنِ : قَلْبًا مَعَكُمْ ، وَقَلْبًا مَعَهُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ سورة الأحزاب آية 4 " ،´ابوظبیان کہتے ہیں کہ` ہم نے ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا : ذرا بتائیں اللہ تعالیٰ کے اس قول «ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه» ” اللہ تعالیٰ نے کسی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ہیں “ ( الاحزاب : ۴ ) ، کا کیا معنی و مطلب ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ سے کچھ سہو ہو گیا ، آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے منافقین نے کہا : کیا تم دیکھتے نہیں ان کے دو دل ہیں ایک تم لوگوں کے ساتھ اور ایک اوروں کے ساتھ ہے ۔ اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه» نازل فرمائی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوظبیان کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا: ذرا بتائیں اللہ تعالیٰ کے اس قول «ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه» ” اللہ تعالیٰ نے کسی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ہیں “ (الاحزاب: ۴)، کا کیا معنی و مطلب ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ سے کچھ سہو ہو گیا، آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے منافقین نے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں ان کے دو دل ہیں ایک تم لوگوں کے ساتھ اور ایک اوروں کے ساتھ ہے۔ اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه» نازل فرمائی۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3199]
وضاحت:
1؎:
اللہ تعالیٰ نے کسی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ہیں (الأحزاب: 4)
نوٹ:
(سند میں قابوس لین الحدیث راوی ہیں)