حدیث نمبر: 3189
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَال : سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ، قَالَ : أُنْزِلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ ، فَذَكَرَ قِصَّةً ، فَقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ : أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ اللَّهُ بِالْبِرِّ ؟ وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَمُوتَ أَوْ تَكْفُرَ ، قَالَ : فَكَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا شَجَرُوا فَاهَا ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي سورة العنكبوت آية 8 الْآيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میرے تعلق سے چار آیتیں نازل ہوئی ہیں ، پھر انہوں نے ایک واقعہ وقصہ بیان کیا ، ام سعد رضی الله عنہا نے کہا : کیا اللہ نے احسان کا حکم نہیں دیا ہے ؟ ۱؎ قسم اللہ کی ! نہ میں کھانا کھاؤں گی نہ کچھ پیوں گی یہاں تک کہ مر جاؤں یا پھر تم ( اپنے ایمان سے ) پھر جاؤ ۔ ( سعد ) کہتے ہیں : جب لوگ اسے کھلانے کا ارادہ کرتے تو لکڑی ڈال کر اس کا منہ کھولتے ، اسی موقع پر آیت «ووصينا الإنسان بوالديه حسنا وإن جاهداك لتشرك بي» ” ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ احسان ( و حسن سلوک ) کا حکم دیا لیکن اگر وہ چاہیں کہ تم میرے ساتھ شرک کرو جس کا تمہیں علم نہیں تو تم ان کا کہنا نہ مانو “ ( العنکبوت : ۸ ) ، نازل ہوئی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی سعد رضی الله عنہ کی مشرک و کافر ماں ان کو اللہ نے اپنے ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے کے حکم سے حوالے سے کفر و شرک پر ابھار رہی تھی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3189
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 3079 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1748

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ العنکبوت کی بعض آیات کی تفسیر۔`
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے تعلق سے چار آیتیں نازل ہوئی ہیں، پھر انہوں نے ایک واقعہ وقصہ بیان کیا، ام سعد رضی الله عنہا نے کہا: کیا اللہ نے احسان کا حکم نہیں دیا ہے؟ ۱؎ قسم اللہ کی! نہ میں کھانا کھاؤں گی نہ کچھ پیوں گی یہاں تک کہ مر جاؤں یا پھر تم (اپنے ایمان سے) پھر جاؤ۔ (سعد) کہتے ہیں: جب لوگ اسے کھلانے کا ارادہ کرتے تو لکڑی ڈال کر اس کا منہ کھولتے، اسی موقع پر آیت «ووصينا الإنسان بوالديه حسنا وإن جاهداك لتشرك بي» ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ احسان (و حسن سلوک) کا حکم دیا لیکن اگر وہ چاہیں کہ تم میرے ساتھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3189]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی سعد رضی اللہ عنہ کی مشرک وکافر ماں ’’ان کو اللہ نے اپنے ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے‘‘ کے حکم سے حوالے سے کفروشرک پر ابھار رہی تھی۔

2؎:
ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ احسان (وحسن سلوک) کا حکم دیا لیکن اگر وہ چاہیں کہ تم میرے ساتھ شرک کرو جس کا تمہیں علم نہیں تو تم ان کا کہنا نہ مانو (العنکبوت: 8)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3189 سے ماخوذ ہے۔