سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الْمُؤْمِنُونَ باب: سورۃ المومنون سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ النَّضْرِ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ ابْنُهَا حَارِثَةُ بْنُ سُرَاقَةَ أُصِيبَ يَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَهُ سَهْمٌ غَرَبٌ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : أَخْبِرْنِي عَنْ حَارِثَةَ لَئِنْ كَانَ أَصَابَ خَيْرًا احْتَسَبْتُ وَصَبَرْتُ ، وَإِنْ لَمْ يُصِبْ الْخَيْرَ اجْتَهَدْتُ فِي الدُّعَاءِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ فِي جَنَّةٍ ، وَإِنَّ ابْنَكِ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَى ، وَالْفِرْدَوْسُ رَبْوَةُ الْجَنَّةِ وَأَوْسَطُهَا وَأَفْضَلُهَا " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ .´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ربیع بنت نضر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، ان کے بیٹے حارث بن سراقہ جنگ بدر میں شہید ہو گئے تھے ، انہیں ایک انجانا تیر لگا تھا جس کے بارے میں پتا نہ لگ سکا تھا ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : آپ مجھے ( میرے بیٹے ) حارثہ کے بارے میں بتائیے ، اگر وہ خیر پاس کا ہے تو میں ثواب کی امید رکھتی اور صبر کرتی ہوں ، اور اگر وہ خیر ( بھلائی ) کو نہیں پاس کا تو میں ( اس کے لیے ) اور زیادہ دعائیں کروں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حارثہ کی ماں ! جنت میں بہت ساری جنتیں ہیں ، تمہارا بیٹا جنت الفردوس میں پہنچ چکا ہے اور فردوس جنت کا ایک ٹیلہ ہے ، جنت کے بیچ میں ہے اور جنت کی سب سے اچھی جگہ ہے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ربیع بنت نضر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، ان کے بیٹے حارث بن سراقہ جنگ بدر میں شہید ہو گئے تھے، انہیں ایک انجانا تیر لگا تھا جس کے بارے میں پتا نہ لگ سکا تھا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے (میرے بیٹے) حارثہ کے بارے میں بتائیے، اگر وہ خیر پاس کا ہے تو میں ثواب کی امید رکھتی اور صبر کرتی ہوں، اور اگر وہ خیر (بھلائی) کو نہیں پاس کا تو میں (اس کے لیے) اور زیادہ دعائیں کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حارثہ کی ماں! جنت میں بہت ساری جنتیں ہیں، تمہارا ب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3174]
وضاحت:
1؎:
ارشاد باری تعالیٰ ﴿الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ﴾ (المومنون: 11) کی تفسیرمیں مؤلف نے اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔
ان کا بیٹا حارثہ ؓ نامی بدر کی لڑائی میں ایک نامعلوم تیر سے شہید ہوگیا تھا‘ ان ہی کے بارے میں انہوں نے یہ تحقیق فرمائی۔
یہ سن کر ام حارثہ ؓ ہنستی ہوئی گئی اور کہنے لگیں حارثہ مبارک ہو! مبارک ہو! پہلے یہ سمجھیں کہ حارثہ دشمن کے ہاتھ سے نہیں مارا گیا شاید اسے جنت نہ ملے مگر بشارت نبوی سن کر ان کو اطمینان ہوگیا۔
سبحان اللہ عہد نبوی کی مسلمان عورتوں کا بھی کیا ایمان اور یقین تھا کہ وہ اسلام کے لئے مر جانا موجب شہادت و دخول جنت جانتی تھی۔
آج کل کے مسلمان ہیں جو اسلام کے نام پر ہر ہر قدم پیچھے ہی ہٹتے جا رہے ہیں پھر بھلا ترقی اور کامیابی کیونکر نصیب ہو۔
اقبال نے سچ کہا ہے ؎ آتجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے شمشیر و سناں اول‘ طاؤس و رباب آخر
1۔
حضرت اُم حارثہ ؓنے یہ خیال کیا کہ میرا بیٹا دشمن کے ہاتھوں شہید نہیں ہوا شاید اسے جنت نہ ملے۔
جب انھیں پتہ چلا کہ ان کا بیٹا فردوس اعلیٰ میں ہے تو ہنستی مسکراتی ہوئی واپس ہوئیں اور کہنے لگیں۔
اے حارثہ! تجھے مبارک ہو حارثہ تیرے کیا ہی کہنے ہیں۔
۔
۔
رضي اللہ تعالیٰ عنه 2۔
واضح رہے کہ اس خاتون کا نام اُم ربیع بنت براء ؓ نہیں بلکہ ربیع بنت نضر ؓہے جو حضرت انس ؓ کی پھوپھی ہیں جنھوں نے اپنے شہید بھائی حضرت انس بن نضر ؓ کو انگلی کے پوروں سے شناخت کیا تھا۔
(فتح الباري: 29/6، 33)
3۔
اس حدیث سے امام بخاری ؒنے ایک وہم ازالہ کیا ہے کہ جب تیر مارنے والے کے متعلق معلوم نہیں کہ وہ کافر ہے یا مومن تو مقتول کو شہید کہنا کیسے ممکن ہے؟ اس پر تنبیہ فرمائی کہ میدان جنگ میں جو مسلمان مقتول پایا گیا وہ شہید ہے اگرچہ اس کا قاتل معلوم نہ ہو۔
ان کی ماں کا نام ربیع بنت نضر ہے جو انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی پھوپھی ہیں۔
یہی حارثہ جنگ بدر میں شہید ہوئے تھے۔
یہ پہلے انصاری نوجوان ہیں جو جنگ بدر میں انصار میں سے شہید ہوئے۔
(رضي اللہ عنه)
(1)
حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا کا مطلب تھا کہ اگر وہ جنت میں ہے تو صبر کروں اور اگر اس کے علاوہ کوئی دوسری بات ہے تو پریشان لوگوں کی طرح واویلا کروں گی جسے ہر ایک دیکھے گا اور رو دھو کر اپنا غم ہلکا کروں گی جیسا کہ ایک دوسری روایت میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح البخاري، الجھاد والسیر، حدیث: 2809)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو جنت فردوس مانگا کرو کیونکہ یہ جنت سب سے اعلیٰ اور اونچے مقام پر ہے۔
اس کے اوپر اللہ کا عرش ہے اور جنت کی نہریں بھی اسی جنت سے پھوٹتی ہیں۔
‘‘ (صحیح البخاري، التوحید، حدیث: 7423)
یہ اللہ کا قطعی فیصلہ ہے۔
یہ حا رثہ بن سراقہ بن حارث بن عدی انصاری بن عدی بن نجارہیں۔
حارثہ کے باپ سراقہ صحا بی ؓ جنگ حنین میں شہید ہوئے تھے۔
(رضي اللہ عنه)
1۔
صحیح بخاری ؒ کی روایت میں ہے کہ حضرت حارثہ ؓ ایک ایسا تیرلگنے سے شہید ہوئے تھے جس کے مارنے والے کا علم نہیں تھا۔
اس بنا پر حضرت حارثہ ؓ کی والدہ کو فکر لاحق ہوئی کہ نامعلوم اس کا انجام کیا ہو۔
(صحیح البخاري، الجهاد والسیر، حدیث: 2809)
2۔
دوسری روایت میں یہ وضاحت ہے کہ ان کی والدہ نے کہا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! اگر وہ کسی اور صورت حال سے دو چار ہے تو میں رونے دھونے میں اپنی طاقت صرف کردوں گی۔
(صحیح البخاري، الجهاد والسیر، حدیث: 2809)
رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا: ’’تو پاگل ہو گئی ہے کہ بیٹے کے جنتی یا غیر جنتی ہونے کا سوال کرتی ہے یقین سے کیوں نہیں کہتی کہ میرا بیٹا جنت میں ہے۔
وہ کون سی جنت ہے؟ سوال تو یہ کہنا چاہیے تھا؟ وہ جنت الفردوس میں ہے جس سے نہریں پھوٹتی ہیں اور اس کے اوپر تو اللہ تعالیٰ کا عرش ہے۔
‘‘ 3۔
اس حدیث سے بدر میں شریک ہونے والوں کی فضیلت ثابت ہوئی کہ وہ سب جنتی ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے۔