حدیث نمبر: 3170
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا سُمِّيَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ : لِأَنَّهُ لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهِ جَبَّارٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خانہ کعبہ کا نام «بيت العتيق» ۱؎ ( آزاد گھر ) اس لیے رکھا گیا کہ اس پر کسی جابر و ظالم کا غلبہ و قبضہ نہیں ہو سکا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- یہ حدیث زہری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے آئی ہے ۔

وضاحت:
۱؎: مولف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ «وليطوفوا بالبيت العتيق» (الحج: ۲۹)۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3170
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الضعيفة (3222) // ضعيف الجامع الصغير (2059) // , شیخ زبیر علی زئی: (3170) إسناده ضعيف, ابن شھاب الزھري عنعن (تقدم:440)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 5284) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن صالح حافظہ کے ضعیف ہیں، اور ان کے مخالف ان سے ثقہ رواة نے اس کو عبد اللہ بن زبیر کا اپنا قول بتایا ہے، دیکھیے اگلی سند)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الحج سے بعض آیات کی تفسیر۔`
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خانہ کعبہ کا نام «بيت العتيق» ۱؎ (آزاد گھر) اس لیے رکھا گیا کہ اس پر کسی جابر و ظالم کا غلبہ و قبضہ نہیں ہو سکا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3170]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مولف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ ﴿وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ میں ذکر کی ہے(الحج: 29)

نوٹ:
(سند میں عبد اللہ بن صالح حافظہ کے ضعیف ہیں، اور ان کے مخالف ان سے ثقہ رواۃ نے اس کو عبد اللہ بن زبیر کا اپنا قول بتایا ہے، دیکھیے اگلی سند)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3170 سے ماخوذ ہے۔