سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ باب: سورۃ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3164
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الأَشْيَبُ بَغْدَادِيٌّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْوَيْلُ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ يَهْوِي فِيهِ الْكَافِرُ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ قَعْرَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «ويل» جہنم کی ایک وادی ہے ( اور اتنی گہری ہے کہ ) جب کافر اس میں گرے گا تو اس کو تہہ تک پہنچنے سے پہلے گرنے میں چالیس سال لگ جائیں گے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- ہم ابن لہیعہ کے سوا کسی اور کو نہیں جانتے کہ وہ اسے مرفوعاً روایت کرتا ہو ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حدیث مولف ارشاد باری «ولكم الويل مما تصفون» (الأنبیاء: ۱۸) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ويل» جہنم کی ایک وادی ہے (اور اتنی گہری ہے کہ) جب کافر اس میں گرے گا تو اس کو تہہ تک پہنچنے سے پہلے گرنے میں چالیس سال لگ جائیں گے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3164]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ويل» جہنم کی ایک وادی ہے (اور اتنی گہری ہے کہ) جب کافر اس میں گرے گا تو اس کو تہہ تک پہنچنے سے پہلے گرنے میں چالیس سال لگ جائیں گے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3164]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ حدیث مؤلف ارشاد باری ﴿وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ﴾ (الأنبیاء: 18) کی تفسیرمیں لائے ہیں۔
نوٹ:
(سند میں ابن لھیعہ اور دراج دونوں ضعیف راوی ہیں)
وضاحت:
1؎:
یہ حدیث مؤلف ارشاد باری ﴿وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ﴾ (الأنبیاء: 18) کی تفسیرمیں لائے ہیں۔
نوٹ:
(سند میں ابن لھیعہ اور دراج دونوں ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3164 سے ماخوذ ہے۔