سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ طه باب: سورۃ طہٰ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : " لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ أَسْرَى لَيْلَةً حَتَّى أَدْرَكَهُ الْكَرَى أَنَاخَ فَعَرَّسَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا بِلَالُ ، اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَةَ ، قَالَ : فَصَلَّى بِلَالٌ ثُمَّ تَسَانَدَ إِلَى رَاحِلَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الْفَجْرِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَنَامَ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ أَحَدٌ مِنْهُمْ ، وَكَانَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَيْ بِلَالُ ، فَقَالَ بِلَالٌ : بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْتَادُوا ثُمَّ أَنَاخَ فَتَوَضَّأَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ ثُمَّ صَلَّى مِثْلَ صَلَاتِهِ لِلْوَقْتِ فِي تَمَكُّثٍ ، ثُمَّ قَالَ : وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14 " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، وَغَيْرُهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے لوٹے ، رات کا سفر اختیار کیا ، چلتے چلتے آپ کو نیند آنے لگی ( مجبور ہو کر ) اونٹ بٹھایا اور قیام کیا ، بلال رضی الله عنہ سے فرمایا : ” بلال ! آج رات تم ہماری حفاظت و پہرہ داری کرو “ ، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں : بلال نے ( جاگنے کی صورت یہ کی کہ ) نماز پڑھی ، صبح ہونے کو تھی ، طلوع فجر ہونے کا انتظار کرتے ہوئے انہوں نے اپنے کجاوے کی ( ذرا سی ) ٹیک لے لی ، تو ان کی آنکھ لگ گئی ، اور وہ سو گئے ، پھر تو کوئی اٹھ نہ سکا ، ان سب میں سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے ، آپ نے فرمایا : ” بلال ! ( یہ کیا ہوا ؟ ) “ بلال نے عرض کیا : میرے باپ آپ پر قربان ، مجھے بھی اسی چیز نے اپنی گرفت میں لے لیا جس نے آپ کو لیا ، آپ نے فرمایا : ” یہاں سے اونٹوں کو آگے کھینچ کر لے چلو ، پھر آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اونٹ بٹھائے ، وضو کیا ، نماز کھڑی کی اور ویسی ہی نماز پڑھی جیسی آپ اطمینان سے اپنے وقت پر پڑھی جانے والی نمازیں پڑھا کرتے تھے ۔ پھر آپ نے آیت «أقم الصلاة لذكري» ” مجھے یاد کرنے کے لیے نماز پڑھو “ ( طہٰ : ۱۴ ) ، پڑھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غیر محفوظ ہے ، اسے کئی حافظان حدیث نے زہری سے ، زہری نے سعید بن مسیب سے اور سعید بن مسیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، ان لوگوں نے اپنی روایتوں میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ہے ، ۲- صالح بن ابی الاخضر حدیث میں ضعیف قرار دیئے جاتے ہیں ۔ انہیں یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے حفظ کے تعلق سے ضعیف کہا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے لوٹے، رات کا سفر اختیار کیا، چلتے چلتے آپ کو نیند آنے لگی (مجبور ہو کر) اونٹ بٹھایا اور قیام کیا، بلال رضی الله عنہ سے فرمایا: ” بلال! آج رات تم ہماری حفاظت و پہرہ داری کرو “، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: بلال نے (جاگنے کی صورت یہ کی کہ) نماز پڑھی، صبح ہونے کو تھی، طلوع فجر ہونے کا انتظار کرتے ہوئے انہوں نے اپنے کجاوے کی (ذرا سی) ٹیک لے لی، تو ان کی آنکھ لگ گئی، اور وہ سو گئے، پھر تو کوئی اٹھ نہ سکا، ان سب میں سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3163]
اگرمشترکہ طور پر نماز فوت ہو جائے تو وقت ملتے ہی اس کے لیے اہتمام کیا جائے گا۔
اذان کہہ کر سنتیں پڑھی جائیں گی۔
پر اقامت کہہ کر جماعت کروائی جائے گی۔
اگرنمازیں ایک سے زائد فوت ہو جائیں تو پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت دونوں ہیں۔
بعد والی نمازوں کے لیے اختیار ہے ہر ایک کےلیے اذان اور اقامت کہہ لیں یا صرف اقامت پر اکتفا کر لیں۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
اورامام احمد رحمۃ اللہ علیہ ہر نماز کے لیے اذان کے قائل ہیں۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ آخری قول میں اذان کے قائل نہیں۔
2۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
اورامام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سنتوں کی قضائی بہتر ہے۔
سنتیں نماز کےساتھ رہ گئی ہوں یا صرف سنتیں باقی ہوں اور احناف کے نزدیک اگرصرف سنتیں رہ گئی ہوں توان کی قضا نہیں ہے۔
فرضوں کےساتھ قضاء ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سو گئے، اور فجر کی سنتیں نہ پڑھ سکے، تو ان کی قضاء سورج نکلنے کے بعد کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1155]
فائده:
اس سے معلوم ہوا کہ فجر کی سنتیں رہ جایئں تو سورج طلوع ہونے کے بعد بھی پڑھی جاسکتی ہیں۔
تاہم انھیں قضا قرار دیا گیا ہے۔
اس لئے طلوع آفتاب سے پہلے پڑھ لینا بہتر ہے کیونکہ وہ نماز فجر کا ہی ایک حصہ ہیں۔
جنھیں فجر کے وقت ہی میں پڑھ لیا گیا تو قضا نہیں ہوئیں۔