سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ مَرْيَمَ باب: سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ إِنِّي قَدْ أَحْبَبْتُ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ ، قَالَ : فَيُنَادِي فِي السَّمَاءِ ثُمَّ تَنْزِلُ لَهُ الْمَحَبَّةُ فِي أَهْلِ الْأَرْضِ ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا سورة مريم آية 96 ، وَإِذَا أَبْغَضَ اللَّهُ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ إِنِّي أَبْغَضْتُ فُلَانًا ، فَيُنَادِي فِي السَّمَاءِ ثُمَّ تَنْزِلُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الْأَرْضِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا .´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ کسی بندے کو پسند کرتا ہے تو جبرائیل کو بلا کر کہتا ہے : میں نے فلاں کو اپنا حبیب بنا لیا ہے تم بھی اس سے محبت کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر جبرائیل آسمان میں اعلان کر دیتے ہیں ، اور پھر زمین والوں کے دلوں میں محبت پیدا ہو جاتی ہے ، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے قول : «إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات سيجعل لهم الرحمن ودا» ” اس میں شک نہیں کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں ، اور نیک عمل کرتے ہیں اللہ ان کے لیے ( لوگوں کے دلوں میں ) محبت پیدا کر دے گا “ ( مریم : ۹۶ ) ، کا مطلب و مفہوم ۔ اور اللہ جب کسی بندے کو نہیں چاہتا ( اس سے بغض و نفرت رکھتا ہے ) تو جبرائیل کو بلا کر کہتا ہے ، میں فلاں کو پسند نہیں کرتا پھر وہ آسمان میں پکار کر سب کو اس سے باخبر کر دیتے ہیں ۔ تو زمین میں اس کے لیے ( لوگوں کے دلوں میں ) نفرت و بغض پیدا ہو جاتی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اسی جیسی حدیث عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے اپنے باپ سے اور ان کے باپ نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب اللہ کسی بندے کو پسند کرتا ہے تو جبرائیل کو بلا کر کہتا ہے: میں نے فلاں کو اپنا حبیب بنا لیا ہے تم بھی اس سے محبت کرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پھر جبرائیل آسمان میں اعلان کر دیتے ہیں، اور پھر زمین والوں کے دلوں میں محبت پیدا ہو جاتی ہے، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے قول: «إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات سيجعل لهم الرحمن ودا» ” اس میں شک نہیں کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں، اور نیک عمل کرتے ہیں اللہ ان کے لیے (لوگوں کے دلوں میں) محبت پیدا کر دے گا “ (مریم: ۹۶)، کا م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3161]
وضاحت:
1؎:
اس میں شک نہیں کہ جولوگ ایمان لاتے ہیں، اور نیک عمل کرتے ہیں اللہ ان کے لیے (لوگوں کے دلوں میں) محبت پیداکردے گا (مریم: 96)
اس حدیث سے اللہ کے کام میں آواز اور پکار ثابت ہوئی اور ان لوگوں کا رد ہوا جو کہتے ہیں کہ اللہ کے کلام میں صوت اور حرف نہیں ہیں۔
1۔
اس روایت کا دوسراحصہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے عداوت رکھتا ہے تو حضرت جبرئیل ؑ کو آواز دیتا ہے کہ میں فلاں شخص سے عداوت رکھتا ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ توجبرئیل ؑ اس سے دشمنی رکھتے ہیں۔
پھرحضرت جبرئیل ؑ تمام اہل آسمان میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے دشمنی رکھتاہے، لہذا تم بھی اس سے عداوت رکھو، چنانچہ تمام اہل آسمان اس سے عداوت رکھتے ہیں۔
پھر اس کے متعلق یہ نفرت وعداوت زمین میں بھی رکھ دی جاتی ہے۔
(عمدة القاری: 573/10)
2۔
ا س سے معلوم ہوا کہ جس شخص کے متعلق لوگوں کے دلوں میں بغض ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی مبغوض ہوتاہے۔
3۔
اس حدیث میں اہل آسمان سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔
4۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے فرشتوں کا وجود ثابت کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق ہیں اوران کا مسکن آسمان میں ہے۔
أستغفراللہ ونعوذ باللہ من ھذہ الخرافات۔
روایت میں مقبولان خدا کے لیے عام محبت کا ذکر ہے مگر یہ محبت اللہ کے بندوں ہی کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے۔
ابو جہل اور ابو لہب جیسے بد بخت پھر بھی محروم رہ جاتے ہیں۔
(1)
اہل زمین کے دلوں میں جو بندے کی محبت ہوتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کرتا ہے۔
ابو جہل اور ابو لہب جیسے بدبخت انسان اس قسم کی محبت سے محروم رہتے ہیں۔
(2)
بہرحال لوگوں کے دلوں میں کسی شخص کی محبت اللہ تعالیٰ اور اس کے مقربین کی محبت کی علامت ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’یقیناً جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اچھے کام کررہے ہیں عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے لیے(لوگوں کے دلوں میں)
محبت پیدا کردے گا۔
‘‘ (مریم19: 96)
ایک روایت میں ہے: ’’اللہ تعالیٰ جب کسی سے بغض رکھتا ہے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام کو بلا کرکہتا ہے کہ میں فلاں آدمی سے بغض رکھتا ہوں تم بھی اس سے بغض رکھو، جبرئیل علیہ السلام بھی اس سے بغض رکھتے ہیں، پھر اہل آسمان میں آواز دیتا ہے تو آسمان والے بھی اس سے عداوت رکھتے ہیں،پھر اس کے بارے میں نفرت زمین والوں میں اتار دی جاتی ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، البروالصلة، حدیث: 6705(2637) (3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: محبت کی تین قسمیں ہیں: ایک الٰہی، دوسری روحانی اور تیسری طبعی۔
اللہ تعالیٰ کا بندے سے محبت کرنا، محبت الٰہی، حضرت جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کا اس سے محبت کرنا روحانی اور اللہ کے بندوں کا اس سے محبت کرنا محبت طبعی ہے۔
(فتح الباري: 568/10)
یہ خالصاً موحدین سنت نبوی کے تابعدار کا ذکر ہے ان ہی کو دوسرے لفظوں میں اولیاء اللہ کہا جاتا ہے نہ کہ فساق فجار بدعتی لوگ وہ تو اللہ اور رسول کے دشمن ہیں۔
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کلام الٰہی کی حقیقت وماہیت کو ثابت کرنے کے بعد اب اس کی انواع واقسام کا ذکر کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق سے ہم کلام ہونا بھی ایک قسم ہے جسے اس عنوان میں بیان کیا گیا ہے چنانچہ اس حدیث میں ہے: ’’اللہ تعالیٰ حضرت جبرئیل علیہ السلام سے کلام کرتا ہے کہ وہ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے۔
‘‘2۔
واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی بندے سے محبت کے کئی ایک اسباب ہیں: ان سے ایک توبہ واستغفار ہے، نیز ظاہری اور باطنی نجاستوں سے پاک رہنا بھی اللہ تعالیٰ کی بندے سے محبت کا باعث ہے۔
اس کے علاوہ دشمنان اسلام کے سامنے سینہ سپر ہونا اور کثرت نوافل کا اہتمام کرنا بھی اللہ تعالیٰ کا محبت کے اسباب ہیں۔
بہرحال اللہ تعالیٰ جب چاہے، جسے چاہے اور جس سے چاہے گفتگو کرتا ہے۔
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کا حضرت جبرئیل علیہ السلام کو ندا دینا ثابت ہے۔
اور ندا باآواز بلند پکارنے کو کہا جاتا ہے۔
انھی الفاظ سے عنوان ثابت ہوتا ہے۔
واللہ أعلم۔