سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ مَرْيَمَ باب: سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، قَالَ : سَأَلْتُ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيَّ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا سورة مريم آية 71 فَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ يَصْدُرُونَ مِنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ ، فَأَوَّلُهُمْ كَلَمْحِ الْبَرْقِ ثُمَّ كَالرِّيحِ ثُمَّ كَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ كَالرَّاكِبِ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ كَشَدِّ الرَّجُلِ ثُمَّ كَمَشْيِهِ " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، فَلَمْ يَرْفَعْهُ .´سدی کہتے ہیں کہ` میں نے مرہ ہمدانی سے آیت «وإن منكم إلا واردها» ” یہ امر یقینی ہے کہ تم میں سے ہر ایک اس پر عبور کرے گا “ ( مریم : ۷۱ ) ، کا مطلب پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے ان لوگوں سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگ جہنم میں جائیں گے ، پھر اس سے اپنے اعمال کے سہارے نکلیں گے ، پہلا گروہ ( جن کے اعمال بہت اچھے ہوں گے ) بجلی چمکنے کی سی تیزی سے نکل آئے گا ۔ پھر ہوا کی رفتار سے ، پھر گھوڑے کے تیز دوڑنے کی رفتار سے ، پھر سواری لیے ہوئے اونٹ کی رفتار سے ، پھر دوڑتے شخص کی ، پھر پیدل چلنے کی رفتار سے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- اس حدیث کو شعبہ نے سدی سے روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سدی کہتے ہیں کہ میں نے مرہ ہمدانی سے آیت «وإن منكم إلا واردها» ” یہ امر یقینی ہے کہ تم میں سے ہر ایک اس پر عبور کرے گا “ (مریم: ۷۱)، کا مطلب پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے ان لوگوں سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگ جہنم میں جائیں گے، پھر اس سے اپنے اعمال کے سہارے نکلیں گے، پہلا گروہ (جن کے اعمال بہت اچھے ہوں گے) بجلی چمکنے کی سی تیزی سے نکل آئے گا۔ پھر ہوا کی رفتار سے، پھر گھوڑے کے تیز دوڑنے کی رفتار سے، پھر سواری لیے ہوئے اونٹ کی رفتار سے، پھر دوڑتے شخص کی، پھر پیدل چلنے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3159]
وضاحت:
1؎:
یہ امر یقینی ہے کہ تم میں سے ہر ایک اس پر عبور کرے گا (مریم: 71)