سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ مَرْيَمَ باب: سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيل أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ سورة مريم آية 39 ، قَالَ : " يُؤْتَى بِالْمَوْتِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ حَتَّى يُوقَفَ عَلَى السُّورِ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، فَيُقَالُ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، فَيَشْرَئِبُّونَ ، وَيُقَالُ : يَا أَهْلَ النَّارِ ، فَيَشْرَئِبُّونَ ، فَيُقَالُ : هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ ، فَيُضْجَعُ فَيُذْبَحُ فَلَوْلَا أَنَّ اللَّهَ قَضَى لِأَهْلِ الْجَنَّةِ الْحَيَاةَ فِيهَا وَالْبَقَاءَ لَمَاتُوا فَرَحًا ، وَلَوْلَا أَنَّ اللَّهَ قَضَى لِأَهْلِ النَّارِ الْحَيَاةَ فِيهَا وَالْبَقَاءَ لَمَاتُوا تَرَحًا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وأنذرهم يوم الحسرة» ” اے نبی ! ان کو حسرت و افسوس کے دن سے ڈراؤ “ ( مریم : ۳۹ ) ، پڑھی ( پھر ) فرمایا : ” موت چتکبری بھیڑ کی صورت میں لائی جائے گی اور جنت و جہنم کے درمیان دیوار پر کھڑی کر دی جائے گی ، پھر کہا جائے گا : اے جنتیو ! جنتی گردن اٹھا کر دیکھیں گے ، پھر کہا جائے گا : اے جہنمیو ! جہنمی گردن اٹھا کر دیکھنے لگیں گے ، پوچھا جائے گا : کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ وہ سب کہیں گے : ہاں ، یہ موت ہے ، پھر اسے پہلو کے بل پچھاڑ کر ذبح کر دیا جائے گا ، اگر اہل جنت کے لیے زندگی و بقاء کا فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو وہ خوشی سے مر جاتے ، اور اگر اہل جہنم کے لیے جہنم کی زندگی اور جہنم میں ہمیشگی کا فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو وہ غم سے مر جاتے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وأنذرهم يوم الحسرة» ” اے نبی! ان کو حسرت و افسوس کے دن سے ڈراؤ “ (مریم: ۳۹)، پڑھی (پھر) فرمایا: ” موت چتکبری بھیڑ کی صورت میں لائی جائے گی اور جنت و جہنم کے درمیان دیوار پر کھڑی کر دی جائے گی، پھر کہا جائے گا: اے جنتیو! جنتی گردن اٹھا کر دیکھیں گے، پھر کہا جائے گا: اے جہنمیو! جہنمی گردن اٹھا کر دیکھنے لگیں گے، پوچھا جائے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ سب کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے، پھر اسے پہلو کے بل پچھاڑ کر ذبح کر دیا جائے گا، اگر اہل جنت کے لیے زندگی و بقاء کا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3156]
وضاحت:
1؎:
اے نبی! ان کو حسرت وافسوس کے دن سے ڈراؤ (مریم: 39)
(رضي اللہ عنهم وأرضاهم)
1۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’موت کو لایا جائے گا اور اسے پل صراط پر کھڑا کیا جائے گا پھر اہل جنت کو آواز دی جائے گی وہ اس طرح ڈرتے ہوئے دیکھیں گے۔
کہ کہیں انھیں جنت سے نکال نہ دیا جائے۔
پھر اہل دوزخ کو آواز دی جائے گی۔
وہ بہت خوش ہوں گے اور خوشی سے اپنی گردنیں اٹھا کر دیکھیں گے کہ انھیں دوزخ سے نکالا جائے گا۔
پھر ان سب کو کہا جائے گا کیا تم اسے پہنچانتےہو؟ وہ سب کہیں گے ہم اسے جانتے ہیں۔
پھر اسے ذبح کردینے کا حکم دیا جائے گا تو اسے پل صراط پر ذبح کیا جائے گا۔
پھر دونوں گروہوں سے کہا جائے گا تم جہاں جہاں ہو اس میں ہمیشہ رہو گے۔
موت نہیں آئے گی۔
‘‘ (سنن ابن ماجہ الزھد حدیث4327)
ایک روایت میں ہے کہ اسے جنت اور دوزخ کے درمیان ایک دیوار پر ذبح کیا جائے گا۔
(جامع الترمذي، صفة الجنة، حدیث: 2557)
2۔
مقصد یہ ہے کہ اہل جنت کی خوشی کو دوبالا اور اہل جہنم کی پریشانی کو زیادہ کرنے کے لیے موت کو ذبح کر دیا جائے گا چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ’’موت کو اس لیے ذبح کیا جائے گا تاکہ اہل جنت کی خوشی میں اضافہ ہو اور اہل جہنم کا افسوس اور دکھ مزید بڑھ جائے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الرقاق، حدیث: 6548)
3۔
ان احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کفار و مشرکین کے لیے جہنم میں ہمیشہ رہنا ہے انھیں موت نہیں آئے گی اور نہ ان کے لیے راحت و آرام ہی کی زندگی ہو گی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور جو لوگ کافر ہیں ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے نہ تو ان پر موت آئے گی کہ وہ مرجائیں اور نہ دوزخ کا عذاب ہی ان سے ہلکا کیا جائے گا۔
‘‘ (فاطر: 35۔
36)
واضح رہے کہ یہ اعلان اس وقت کیا جائے گا جب شفاعت کی وجہ سے نجات پانے والے جنت میں جا چکے ہوں گے اور جہنم میں صرف وہی باقی رہ جائیں گے جن کے لیے وہاں ہمیشہ رہنے کا فیصلہ ہو چکا ہو گا۔
وہ وہاں سے بھاگ نکلنے کی کوشش بھی کریں گے لیکن اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے فرشتے انھیں وہاں سے نکلتے نہیں دیں گے اور انھیں جسمانی سزا اور ذہنی کو فت پہنچانے کے لیے نت نئے تجربےکریں گے۔
أعاذنا اللہ منه
قیامت کے دن اللہ موت کو مینڈھے کی شکل دے گا اور یہ چیز اللہ کی قدرت سے بعید نہیں ہے، اس سے کوئی محال اور ناممکن چیز لازم نہیں آتی، یا کہہ کر کہ انقلاب حقائق محال ہے، اس کی تاویل کرنا درست نہیں ہے، آخرت کو دنیا پر قیاس کرنا، قدرت کو انسانی سانچہ میں ڈاھالنا ہی درحقیقت گمراہی کا منبع اور سر چشمہ ہے۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: ” قیامت کے دن موت کو چتکبرے مینڈھے کی طرح لایا جائے گا اور جنت و جہنم کے درمیان کھڑی کی جائے گی پھر وہ ذبح کی جائے گی، اور جنتی و جہنمی دیکھ رہے ہوں گے، سو اگر کوئی خوشی سے مرنے والا ہوتا تو جنتی مر جاتے اور اگر کوئی غم سے مرنے والا ہوتا تو جہنمی مر جاتے۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2558]
نوٹ:
(’’فلو أن أحدًا‘‘ کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ عطیہ عوفی ضعیف ہیں، اور اس ٹکڑے میں ان کا کوئی متابع نہیں، اور نہ اس کا کوئی شاہد ہے)