حدیث نمبر: 315
وقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ : قَالَ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ : فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَسَنِ بِمَكَّةَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَحَدَّثَنِي بِهِ ، قَالَ : كَانَ إِذَا دَخَلَ ، قَالَ : " رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ رَحْمَتِكَ " وَإِذَا خَرَجَ ، قَالَ : " رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ فَضْلِكَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ , وَأَبِي أُسَيْدٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ فَاطِمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ لَمْ تُدْرِكْ فَاطِمَةَ الْكُبْرَى ، إِنَّمَا عَاشَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهُرًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسماعیل بن ابراہیم بن راہویہ کا بیان ہے کہ` میں عبداللہ بن حسن سے مکہ میں ملا تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اسے بیان کیا اور کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوتے تو یہ کہتے «رب افتح لي باب رحمتك» ” اے میرے رب ! اپنی رحمت کے دروازہ میرے لیے کھول دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- فاطمہ رضی الله عنہا کی حدیث ( شواہد کی بنا پر ) حسن ہے ، ورنہ اس کی سند متصل نہیں ہے ، ۲- فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبریٰ کو نہیں پایا ہے ، وہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چند ماہ ہی تک زندہ رہیں ، ۳- اس باب میں ابوحمید ، ابواسید اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصلاة / حدیث: 315
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح انظر الذي قبله (314) ولفظه أصح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف / السند منقطع وانظر الحديث السابق : 314
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»