سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ باب: سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3137
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الزَّعَافِرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي قَوْلِهِ : " عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا سورة الإسراء آية 79 سُئِلَ عَنْهَا ، قَالَ : هِيَ الشَّفَاعَةُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَدَاوُدُ الزَّعَافِرِيُّ هُوَ دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ عَمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت : «عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا» ” عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا “ ( بنی اسرائیل : ۷۹ ) ، کے بارے میں پوچھے جانے پر فرمایا : ” اس سے مراد شفاعت ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- اور داود زغافری : داود اود بن یزید بن عبداللہ اودی ہیں ، اور یہ عبداللہ بن ادریس کے چچا ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا» ” عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا “ (بنی اسرائیل: ۷۹)، کے بارے میں پوچھے جانے پر فرمایا: ” اس سے مراد شفاعت ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3137]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا» ” عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا “ (بنی اسرائیل: ۷۹)، کے بارے میں پوچھے جانے پر فرمایا: ” اس سے مراد شفاعت ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3137]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
عنقریب آپ کا رب آپ کومقام محمود میں کھڑا کرے گا۔
(بنی اسرائیل: 79)
نوٹ:
(سند میں داؤد ضعیف اور ان کے باپ یزید عبد الرحمن الأودی الزعافری لین الحدیث راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم: 2369، 2370)
وضاحت:
1؎:
عنقریب آپ کا رب آپ کومقام محمود میں کھڑا کرے گا۔
(بنی اسرائیل: 79)
نوٹ:
(سند میں داؤد ضعیف اور ان کے باپ یزید عبد الرحمن الأودی الزعافری لین الحدیث راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم: 2369، 2370)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3137 سے ماخوذ ہے۔