سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ باب: سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِالْبُرَاقِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مُلْجَمًا مُسْرَجًا فَاسْتَصْعَبَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : أَبِمُحَمَّدٍ تَفْعَلُ هَذَا فَمَا رَكِبَكَ أَحَدٌ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْهُ ، قَالَ : فَارْفَضَّ عَرَقًا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ .´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج حاصل ہوئی آپ کی سواری کے لیے براق لایا گیا ۔ براق لگام لگایا ہوا تھا اور اس پر کاٹھی کسی ہوئی تھی ، آپ نے اس پر سوار ہوتے وقت دقت محسوس کی تو جبرائیل علیہ السلام نے اسے یہ کہہ کر جھڑکا : تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا کر رہا ہے ، تجھ پر اب تک ان سے زیادہ اللہ کے نزدیک کوئی معزز شخص سوار نہیں ہوا ہے ، یہ سن کر براق پسینے پسینے ہو گیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں ۔