حدیث نمبر: 3128
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ يَحْيَى الْبَكَّاءِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَال : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُول : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعٌ قَبْلَ الظُّهْرِ بَعْدَ الزَّوَالِ تُحْسَبُ بِمِثْلِهِنَّ فِي صَلَاةِ السَّحَرِ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَيْسَ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا وَيُسَبِّحُ اللَّهَ تِلْكَ السَّاعَةَ ثُمَّ قَرَأَ يَتَفَيَّأُ ظِلالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ سورة النحل آية 48 الْآيَةَ كُلَّهَا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زوال یعنی سورج ڈھلنے کے بعد ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعتیں سحر ( تہجد ) کی چار رکعتوں کے ثواب کے برابر کا درجہ رکھتی ہیں “ ، آپ نے فرمایا : ” کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو اس گھڑی ( یعنی زوال کے وقت ) اللہ کی تسبیح نہ بیان کرتی ہو “ ۔ پھر آپ نے آیت «يتفيأ ظلاله عن اليمين والشمائل سجدا لله وهم داخرون» ” کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھتے ان کے سائے دائیں اور بائیں اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے جھکتے ہیں “ ( النحل : ۴۸ ) ، پڑھی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ، اسے ہم صرف علی بن عاصم کی روایت سے جانتے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3128
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الصحيحة تحت الحديث (1431) // ضعيف الجامع الصغير (754) // , شیخ زبیر علی زئی: (3128) إسناده ضعيف, يحيي البكاء : ضعيف (تقدم: 195)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10573) (ضعیف) (سند میں یحییٰ البکاء ضعیف اور علی بن عاصم غلطیاں کر جاتے تھے، لیکن تعدد طرق کی بناء پر یہ حدیث حسن لغیرہ کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ النحل سے بعض آیات کی تفسیر۔`
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زوال یعنی سورج ڈھلنے کے بعد ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعتیں سحر (تہجد) کی چار رکعتوں کے ثواب کے برابر کا درجہ رکھتی ہیں ، آپ نے فرمایا: کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو اس گھڑی (یعنی زوال کے وقت) اللہ کی تسبیح نہ بیان کرتی ہو۔‏‏‏‏ پھر آپ نے آیت «يتفيأ ظلاله عن اليمين والشمائل سجدا لله وهم داخرون» کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھتے ان کے سائے دائیں اور بائیں اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے جھکتے ہیں (النحل: ۴۸)، پڑھی۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3128]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھتے ان کے سائے دائیں اوربائیں اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے جھکتے ہیں (النحل: 48)

نوٹ:
(سند میں یحییٰ البکاء ضعیف اورعلی بن عاصم غلطیاں کرجاتے تھے، لیکن تعدد طرق کی بناء پر یہ حدیث حسن لغیرہ کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3128 سے ماخوذ ہے۔