حدیث نمبر: 3127
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الطَّيِّبِ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ ، ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ سورة الحجر آية 75 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ سورة الحجر آية 75 ، قَالَ : لِلْمُتَفَرِّسِينَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے “ ، پھر آپ نے آیت «إن في ذلك لآيات للمتوسمين» ” بیشک اس میں نشانیاں ہیں سمجھ داروں کے لیے ہے “ ( الحجر : ۷۵ ) ، تلاوت فرمائی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، بعض اہل علم نے اس آیت «إن في ذلك لآيات للمتوسمين» کی تفسیر یہ کی ہے کہ اس میں نشانیاں ہیں اصحاب فراست کے لیے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3127
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الضعيفة (1821) // ضعيف الجامع الصغير (127) // , شیخ زبیر علی زئی: (3127) ضعيف, عطية : ضعيف (تقدم: 477) وللحديث شواھد ضعيفة
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4217) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم: 1821)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الحجر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے ، پھر آپ نے آیت «إن في ذلك لآيات للمتوسمين» بیشک اس میں نشانیاں ہیں سمجھ داروں کے لیے ہے (الحجر: ۷۵)، تلاوت فرمائی۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3127]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
بیشک اس میں نشانیاں ہیں سمجھ داروں کے لیے ہے (الحجر: 75)

نوٹ:
(سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم: 1821)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3127 سے ماخوذ ہے۔