حدیث نمبر: 3126
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي قَوْلِهِ : لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ { 92 } عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ { 93 } سورة الحجر آية 92-93 ، قَالَ : " عَنْ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «لنسألنهم أجمعين عما كانوا يعملون»” ہم ان سے پوچھیں گے اس کے بارے میں جو وہ کرتے تھے “ ( الحجر : ۹۲ ) ، کے متعلق فرمایا : ” یہ پوچھنا «لا إله إلا الله» کے متعلق ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- ہم اسے لیث بن ابی سلیم کی روایت ہی سے جانتے ہیں ، ۳- عبداللہ بن ادریس نے لیث بن ابی سلیم سے ، اور لیث نے بشر کے واسطہ سے انس سے ایسے ہی روایت کی ہے ، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3126
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: (3126) إسناده ضعيف, ليث: ضعيف (تقدم:218) وبشر: مجھول (تق:710)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 247) (ضعیف الإسناد) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف، اور بشر مجہول راوی ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الحجر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «لنسألنهم أجمعين عما كانوا يعملون» " ہم ان سے پوچھیں گے اس کے بارے میں جو وہ کرتے تھے " (الحجر: ۹۲)، کے متعلق فرمایا: " یہ پوچھنا «لا إله إلا الله» کے متعلق ہو گا۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3126]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ہم ان سے پوچھیں گے اس کے بارے میں جو وہ کرتے تھے (الحجر: 92)

نوٹ:
(سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف، اور بشر مجہول راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3126 سے ماخوذ ہے۔