حدیث نمبر: 3123
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ جُنَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ بَابٌ مِنْهَا لِمَنْ سَلَّ السَّيْفَ عَلَى أُمَّتِي أَوْ قَالَ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہنم کے سات دروازے ہیں ، ان میں سے ایک دروازہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میری امت یا امت محمدیہ پر تلوار اٹھائیں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- ہم اسے صرف مالک بن مغول کی روایت سے جانتے ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: مولف نے یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ «لها سبعة أبواب» (الحجر: ۴۴) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3123
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (3530 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (4661) // , شیخ زبیر علی زئی: (3123) إسناده ضعيف, قال أبوحاتم الززي : ”جنيد عن ابن عمر: مرسل“ (الجرح والتعديل 527/2)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 6678) (ضعیف) (سند میں جنید مجہول الحال راوی ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الحجر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میری امت یا امت محمدیہ پر تلوار اٹھائیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3123]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مؤلف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ ﴿لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ﴾ (الحجر: 44) کی تفسیرمیں لائے ہیں۔

نوٹ:
(سند میں جنید مجہول الحال راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3123 سے ماخوذ ہے۔