مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 3119
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِنَاعٍ عَلَيْهِ رُطَبٌ ، فَقَالَ : " مَثَلُ كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ { 24 } تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا سورة إبراهيم آية 24 ـ 25 ، قَالَ : هِيَ النَّخْلَةُ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ سورة إبراهيم آية 26 قَالَ : هِيَ الْحَنْظَلُ " ، قَالَ : فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ أَبَا الْعَالِيَةِ ، فَقَالَ : صَدَقَ وَأَحْسَنَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹوکری لائی گئی جس میں تروتازہ پکی ہوئی کھجوریں تھیں ، آپ نے فرمایا : «كلمة طيبة كشجرة طيبة أصلها ثابت وفرعها في السماء تؤتي أكلها كل حين بإذن ربها» ۱؎ آپ نے فرمایا : یہ کھجور کا درخت ہے ، اور آیت «ومثل كلمة خبيثة كشجرة خبيثة اجتثت من فوق الأرض ما لها من قرار» ۲؎ میں برے درخت سے مراد اندرائن ہے ۔ شعیب بن حبحاب ( راوی حدیث ) کہتے ہیں : میں نے اس حدیث کا ذکر ابوالعالیہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ اور صحیح کہا ۔

وضاحت:
۱؎: کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ (کھجور کے درخت) کی ہے جس کی جڑ ثابت و (مضبوط) ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں وہ (درخت) اپنے رب کے حکم سے برابر (لگاتار) پھل دیتا رہتا ہے (ابراہیم: ۲۴)۔
۲؎: برے کلمے (بری بات) کی مثال برے درخت جیسی ہے جو زمین کی اوپری سطح سے اکھیڑ دیا جا سکتا ہے جسے کوئی جماؤ (ثبات ومضبوطی) حاصل نہیں ہوتی (ابراہیم: ۲۶)۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3119
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح موقوفا، ضعيف مرفوعا

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹوکری لائی گئی جس میں تروتازہ پکی ہوئی کھجوریں تھیں، آپ نے فرمایا: «كلمة طيبة كشجرة طيبة أصلها ثابت وفرعها في السماء تؤتي أكلها كل حين بإذن ربها» ۱؎ آپ نے فرمایا: یہ کھجور کا درخت ہے، اور آیت «ومثل كلمة خبيثة كشجرة خبيثة اجتثت من فوق الأرض ما لها من قرار» ۲؎ میں برے درخت سے مراد اندرائن ہے۔ شعیب بن حبحاب (راوی حدیث) کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کا ذکر ابوالعالیہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ اور صحیح کہا۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3119]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ (کھجور کے درخت) کی ہے جس کی جڑ ثابت و (مضبوط) ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں وہ (درخت) اپنے رب کے حکم سے برابر (لگاتار) پھل دیتا رہتا ہے (ابراہیم: 24)

2؎:
برے کلمے (بری بات) کی مثال برے درخت جیسی ہے جو زمین کی اوپری سطح سے اکھیڑ دیا جا سکتا ہے جسے کوئی جماؤ (ثبات ومضبوطی) حاصل نہیں ہوتی (ابراہیم: 26)

نوٹ:
(مرفوعاً صحیح نہیں ہے، یہ انس رضی اللہ عنہ کا قول ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3119 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔