حدیث نمبر: 31
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُخَلِّلُ لِحْيَتَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اپنی داڑھی میں خلال کرتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 31
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (430)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الطہارة 50 (430) ( تحفة الأشراف : 9809) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : بلوغ المرام: 37

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
محدثین کرام اور ضعیف جمع ضعیف کی مروّجہ حسن لغیرہ کا مسئلہ؟

عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اپنی داڑھی میں خلال کرتے تھے۔ [ترمذي 31]
جلیل القدر محدثین کرام نے ایسی کئی احادیث کو ضعیف وغیر ثابت قرار دیا، جن کی بہت سی سندیں ہیں اور ضعیف جمع ضعیف کے اُصول سے بعض علماء انھیں حسن لغیرہ بھی قرار دیتے ہیں، بلکہ بعض ان میں سے ایسی روایات بھی ہیں جو ہماری تحقیق میں حسن لذاتہ ہیں۔

اس مضمون میں ایسی دس روایات پیش خدمت ہیں جن پر اکابر علمائے محدثین نے جرح کی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ضعیف جمع ضعیف والی مروّجہ حسن لغیرہ کو حجت نہیں سمجھتے تھے: — نمبر 2 —

حدیث: داڑھی کا خلال کر نا یعنی وضو کے دوران میں تخلیل اللحیۃ۔

اس حدیث کی چند سندیں درج ذیل ہیں: 1: عن عمار بن یاسر رضي اللہ عنہ (ترمذی:29۔30، ابن ماجہ:429، الحاکم 1/ 149)

2: عن عثمان بن عفان رضي اللہ عنہ (ترمذی:31، ابن ماجہ:340، حاکم 1/ 149، بیہقی 1/ 54)

3: عن أنس بن مالک رضي اللہ عنہ (ابو داود:145، بیہقی 1/ 54)

امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’لا یثبت عن النبي ﷺ في تخلیل اللحیۃ حدیث‘‘

نبی ﷺ سے داڑھی کے خلال کے بارے میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہے۔

(علل الحدیث 1/ 252 ح 101)

ثابت ہواکہ امام حاتم کے نزدیک ضعیف جمع ضعیف والی مروّجہ حسن لغیرہ روایت حجت نہیں ہے۔ نیز دیکھئے تاریخ بغداد (2/ 76 ت 455) اور الحدیث حضرو: 83 ص 25

داڑھی کے خلال والی حدیث کے بارے میں ابن حزم نے کہا: اور ان تمام روایات میں سے کوئی چیز بھی صحیح نہیں۔

(المحلّی 2/ 36 مسئلہ 190)

تنبیہ: میر ے نزدیک سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ والی حدیث حسن لذاتہ ہے اور ثقہ راوی اسرائیل بن یونس پر ابن حزم کی جرح جمہور کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
درج بالا اقتباس تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 72 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 37 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´داڑھی کا خلال `
«. . . ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يخلل لحيته في الوضوء . . .»
". . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے ہوئے اپنی داڑھی کا خلال کیا کرتے تھے . . ." [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 37]
فائدہ:
داڑھی کا خلال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور یہ مسنون عمل ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 37 سے ماخوذ ہے۔