سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ باب: سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَاتَ أَبُوهُ ، فَقَالَ : أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ ، وَصَلِّ عَلَيْهِ ، وَاسْتَغْفِرْ لَهُ ، فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَقَالَ : إِذَا فَرَغْتُمْ فَآذِنُونِي " ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ جَذَبَهُ عُمَرُ ، وَقَالَ : أَلَيْسَ قَدْ نَهَى اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ ؟ فَقَالَ : " أَنَا بَيْنَ خِيرَتَيْنِ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سورة التوبة آية 80 فَصَلَّى عَلَيْهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84 فَتَرَكَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن عبداللہ بن ابی کے باپ کا جب انتقال ہوا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور کہا کہ آپ اپنی قمیص ہمیں عنایت فرما دیں ، میں انہیں ( عبداللہ بن ابی ) اس میں کفن دوں گا ۔ اور ان کی نماز جنازہ پڑھ دیجئیے اور ان کے لیے استغفار فرما دیجئیے ۔ تو آپ نے عبداللہ کو اپنی قمیص دے دی ۔ اور فرمایا : ” جب تم ( غسل و غیرہ سے ) فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر دو ۔ پھر جب آپ نے نماز پڑھنے کا ارادہ کیا تو عمر رضی الله عنہ نے آپ کو کھینچ لیا ، اور کہا : کیا اللہ نے آپ کو منافقین کی نماز پڑھنے سے منع نہیں فرمایا ؟ آپ نے فرمایا : ” مجھے دو چیزوں «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» ” ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو “ میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا ۔ چنانچہ آپ نے اس کی نماز پڑھی ۔ جس پر اللہ نے آیت «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» نازل فرمائی ۔ تو آپ نے ان ( منافقوں ) پر نماز جنازہ پڑھنی چھوڑ دی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
رسول اللہ ﷺ نے رئیس المنافقین کو اس لیے کرتا پہنایا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی تھی کہ جو لوگ اسلام کے قریب نہیں تھے، ان کے قریب ہونے کی توقع تھی، چنانچہ حافظ ابن حجر ؒ نے ایک حدیث ذکر کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میری قمیص اسے اللہ کے عذاب سے نہیں بچاسکتی مگر میں نے یہ کام اس لیے کیا ہے کہ مجھے اس عمل سے اس کی قوم کے ہزار آدمیوں کے مسلمان ہونے کی اُمیدہے۔
‘‘ (فتح الباری: 426/8)
نیز منافقین اگرچہ دل سے کافر تھے مگر ظاہری لحاظ سے ان پر شرعی احکام ویسے ہی نافذ تھے جیسے سچے مسلمانوں پر لاگو ہوتے تھے۔
2۔
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر رسول اللہ ﷺ کسی گناہ گار کے حق میں استغفار کریں تو اس کی معافی ہوسکتی ہے لیکن بداعتقاد لوگوں کی معافی کے لیے کوئی صورت نہیں خواہ رسول اللہ ﷺ کتنی ہی زیادہ دفعہ اس کے لیے استغفار کریں، چنانچہ اس آیت کے بعد رسول اللہ ﷺ نے منافقین کی نماز جنازہ پڑھانا یا ان کے حق میں استغفار کرناچھوڑدیاتھا۔
(وتفسیر الطبری تحت آیۃ سورۃ التوبہ: 84)
ایسا ہی ہوا عبد اللہ بن ابی کی قوم کے بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے۔
آپ کے اخلاق کا ان پر بہت بڑا اثر ہوا۔
ایک روایت میں ہے کہ عبد اللہ بن ابی ابھی زندہ تھا کہ اس نے آنحضرت ﷺ کو بلوایا اور آپ سے کرتہ مانگا اور دعا کی درخواست کی۔
حافظ صاحب نقل کرتے ہیں: لَمَّا مَرِضَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ جَاءَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ فَقَالَ قَدْ فَهِمْتُ مَا تَقُولُ فَامْنُنْ عَلَيَّ فَكَفِّنِّي فِي قَمِيصِكَ وَصَلِّ عَلَيَّ فَفَعَلَ وَكَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ أَرَادَ بِذَلِكَ دَفْعُ الْعَارِ عَنْ وَلَدِهِ وَعَشِيرَتِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ فَأَظْهَرَ الرَّغْبَةَ فِي صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَوَقَعَتْ إِجَابَتُهُ إِلَى سُؤَالِهِ بِحَسَبِ مَا ظَهَرَ مِنْ حَالِهِ إِلَى أَنْ كَشَفَ اللَّهُ الْغِطَاءَ عَنْ ذَلِكَ كَمَا سَيَأْتِي وَهَذَا مِنْ أَحْسَنِ الْأَجْوِبَةِ فِيمَا يَتَعَلَّقُ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ۔
(فتح الباری)
عبداللہ بن ابی نے آنحضرت ﷺ سے جنازہ اور کرتہ کے لئے خود درخواست کی تھی تاکہ بعد میں اس کی اولاد اور خاندان پر عار نہ ہو۔
رسول کریم ﷺ پر اس کی مصلحتوں کا کشف ہوگیا تھا، اس لئے آپ ﷺ نے اس کی درخواست کو قبول فرمایا، اس عبارت کا یہی خلاصہ ہے۔
مصلحتوں کا ذکر ابھی پیچھے ہو چکا ہے۔
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے رئیس المنافقین کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عبداللہ کی درخواست پر تین کام کیے:۔
رئیس المنافقین کے لیے اپنی قمیص دی تاکہ اس میں کفن دیاجائے۔
۔
اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا۔
2۔
آپ نے تین وجوہ کی بنا پر یہ کام کیے:۔
رسول اللہ ﷺ کی طبیعت میں نرمی رحم اور عفو درگزر کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔
۔
بدر کے قیدیوں میں آپ کے چچا حضرت عباس ؓ بدن سے ننگے تھے چونکہ ان کا قد لمبا تھا، اس لیے رئیس المنافقین سے قمیص مانگ کردی۔
آپ یہ چاہتے تھے کہ قمیص دے کر اس احسان کا بدلہ چکا دیں۔
۔
ایسے حالات میں رئیس المنافقین کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عبداللہ ؓ کی دل جوئی اور تالیف قلبی مقصود تھی تاکہ وہ شکستہ دل نہ ہو۔
3۔
سیدناعمر ؓ نے اس آیت سے استنباط کرتے ہوئے عرض کی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان منافقین کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع کردیا ہے کیونکہ ستر مرتبہ استغفار کرنے سے بھی اس کی معافی ممکن نہیں تو جنازہ بھی معافی کی درخواست ہوتی ہےاسے ادا کرنے کا کیا فائدہ ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر ؓ کی رائے کے مطابق وحی نازل فرمائی۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اب منافقین سے نرم قسم کی پالیسی اختیار کرنے کا دور بیت چکا ہے اور ان سے سخت رویہ اختیار کرنا عین منشائے الٰہی کے مطابق ہے۔
4۔
واضح رہے کہ رئیس المنافقین کے بیٹے حضرت عبداللہ ؓ نے اس لیے درخواست نہیں کی تھی کہ اس کا باپ نفاق سے تائب ہوچکا تھا بلکہ یہ درخواست اس لیے تھی کہ مرنے کے بعد لوگ اسے اور اس کے قبیلے کو اس کے نفاق کا طعنہ نہ دیں، بہرحال اس کے بیٹے کو اس بات کا علم تھا کہ وہ اب بھی منافق ہے اور حالت نفاق ہی میں مرا ہے۔
واللہ اعلم۔