سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ باب: سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الْغَارِ : لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ يَنْظُرُ إِلَى قَدَمَيْهِ لَأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَيْهِ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، إِنَّمَا يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ تَفَرَّدَ بِهِ ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ هَمَّامٍ نَحْوَ هَذَا .´ابوبکر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جب غار میں تھے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر ان ( کافروں ) میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف نظر ڈالے تو ہمیں اپنے قدموں کے نیچے ( غار میں ) دیکھ لے گا ۔ آپ نے فرمایا : ” ابوبکر ! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال و گمان ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ ہو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ۲- ہمام کی حدیث مشہور ہے اور ہمام اس روایت میں منفرد ہیں ، ۳- اس حدیث کو حبان بن ہلال اور کئی لوگوں نے اسی کے مانند ہمام سے روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوبکر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جب غار میں تھے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر ان (کافروں) میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف نظر ڈالے تو ہمیں اپنے قدموں کے نیچے (غار میں) دیکھ لے گا۔ آپ نے فرمایا: " ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال و گمان ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ ہو " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3096]
وضاحت: 1؎: اللہ تعالیٰ کے قول ﴿إِنَّ اللهَ مَعَنَا﴾ (التوبة: 40) کی طرف اشارہ ہے۔
اللہ کے ساتھ ہونے سے اس کی نصرت حفاظت مراد ہے جب کہ وہ اپنی ذات والا صفات سے عرش پر مستوی ہے رسول کریم ﷺ نے جو کچھ فرمایا تھا دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ کس طرح حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوا اور سارے کفار عرب مل کر بھی اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ پر غالب نہ آسکے سچ ہے: پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
1۔
اللہ کے ساتھ سے مراد اس کی نصرت وتائید اور حفاظت ہے جبکہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے عرش پر مستوری ہے2۔
رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ فرمایا: وہ حرف بحرف پورا ہوا سارے کفار عرب مل کر بھی سلام اور پیغمبر اسلام ﷺ پر غالب نہ آسکے۔
3۔
ایک روایت میں ہے کہ کفار قریش میں سے ایک آدمی ننگا ہو کر پیشاب کرنے لگا تو ابو بکر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! اس نے ہمیں دیکھ لیا ہے۔
آپ نے فرمایا: ’’تم فکر نہ کرو اس نے ہمیں دیکھا ہوتا تو اس طرح ننگا ہو کر پیشاب نہ کرتا۔
‘‘ (فتح الباري: 16/7)
اس حدیث کے فوائد حدیث 3653۔
میں ملاحظہ فرمائیں۔
1۔
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو تسلی دی کہ گھبرانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے اور وہ ہمیں بے یارومددگار نہیں چھوڑے گا۔
ایک روایت میں صراحت ہے کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنے قدموں کے نیچے دیکھ لیا تو ہم اسے نظر آجائیں گے۔
(صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیه وسلم، حدیث: 3653)
ایک دوسری روایت میں مزید وضاحت ہے، حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے کہا: میں غار میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھا۔
میں نے اوپر سر اٹھا کر دیکھا توقوم کے پاؤں مجھے نظر آئے۔
میں نے عرض کی: اللہ کے رسول ﷺ! اگر ان میں سے کسی نے اپنی نگاہوں کو نیچے کیا تو ہم اسے نظر آجائیں گے، رسول اللہ ﷺ نے اسے تسلی دی کہ اے ابوبکر ؓ! تم خاموش رہو، ہم دو ہیں اور تیسرا ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ ہے۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3922)
2۔
بہرحال رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو تسلی دی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت ہمارے شامل حال ہے۔
1۔
واقعہ ہجرت حیات نبوی کا ایک اہم واقعہ ہے جس کی تفاصیل آئندہ بیان ہوں گی،چنانچہ یہ عنوان مہاجرین کے فضائل سے متعلق ہے،اس لیے اس واقعہ کو یہاں بیان کیا گیا ہے۔
اس میں بہت سے معجزات کا ظہور ہوا۔
2۔
قبل ازیں اس حدیث میں تھاکہ جب عازب ؓ اپنی رقم کھری کرنے گئے تو راستے میں حضرت ابوبکرصدیق ؓ سے حدیث ہجرت سنانے کی درخواست کی جبکہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں ہی اس کا مطالبہ کیاتھا لیکن حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا: چلو تمھیں راستے میں حدیث سناؤں گا۔
لیکن حافظ ا بن حجر ؒ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عازب نے اولاً شرط لگائی جسے ابوبکر ؓ نے مان لیا پھر راستے میں ان کے مطالبے پر اس شرط کو پوراکردیا۔
(فتح الباري: 13/7)
3۔
حضرت انس سے مروی حدیث میں حضرت ابوبکر ؓ نے مان لیا پھر راستے میں ان کے مطالبے پر اس شرط کوپورا کردیا۔
)
فتح الباری 13/7۔
(3۔
حضرت انس سے مروی حدیث میں حضرت ابوبکر کی واضح فضیلت بیان ہوئی ہے،ایک روایت میں ہے: مشرکین میں سے ایک شخص ننگا ہوکر غارکے دروازے پر پیشاب کرنے لگا توحضرت ابوبکرنے کہا: اللہ کے رسول ﷺ! اس نے ہمیں دیکھ لیا ہے۔
آپ نے حضرت ابوبکر ؓ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ’’اگر اس نے ہمیں دیکھا ہوتا تو اپنی شرمگاہ ننگی نہ کرتا۔
‘‘(فتح الباري: 18/7)
4۔
حضرت عائشہ ؓ سے مروی حدیث ہجرت میں ہے: عامربن فہیرہ شام کے وقت اونٹنیاں لے کر ان کے پاس آیا۔
اسی مناسبت سے امام بخاری ؒ نے ایک آیت کے تفسیر ی معنی ذکر کیے ہیں: ’’جب تم شام اور صبح کو چراتے ہو تو اس میں تمہارے لیے حسن وجمال ہے۔
‘‘ (النمل: 6/27)