حدیث نمبر: 3091
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : " بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ وَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ عَلِيًّا ، فَبَيْنَا أَبُو بَكْرٍ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ إِذْ سَمِعَ رُغَاءَ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَصْوَاءِ ، فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَزِعًا فَظَنَّ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ فَدَفَعَ إِلَيْهِ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ ، فَانْطَلَقَا فَحَجَّا ، فَقَامَ عَلِيٌّ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ ، فَنَادَى ذِمَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ بَرِيئَةٌ مِنْ كُلِّ مُشْرِكٍ ، فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَلَا يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ ، وَلَا يَطُوفَنَّ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ ، وَكَانَ عَلِيٌّ يُنَادِي فَإِذَا عَيِيَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَنَادَى بِهَا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ کو ( مکہ ) بھیجا کہ وہاں پہنچ کر لوگوں میں ان کلمات ( سورۃ التوبہ کی ابتدائی آیات ) کی منادی کر دیں ۔ پھر ( ان کے بھیجنے کے فوراً بعد ہی ) ان کے پیچھے آپ نے علی رضی الله عنہ کو بھیجا ۔ ابوبکر رضی الله عنہ بھی کسی جگہ راستہ ہی میں تھے کہ انہوں نے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصویٰ کی بلبلاہٹ سنی ، گھبرا کر ( خیمہ ) سے باہر آئے ، انہیں خیال ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں ، لیکن وہ آپ کے بجائے علی رضی الله عنہ تھے ۔ علی رضی الله عنہ نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا خط انہیں پکڑا دیا ، اور ( آپ نے ) علی رضی الله عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کلمات کا ( بزبان خود ) اعلان کر دیں ۔ پھر یہ دونوں حضرات ساتھ چلے ، ( دونوں نے حج کیا ، اور علی رضی الله عنہ نے ایام تشریق میں کھڑے ہو کر اعلان کیا : اللہ اور اس کے رسول ہر مشرک و کافر سے بری الذمہ ہیں ، صرف چار مہینے ( سر زمین مکہ میں ) گھوم پھر لو ، اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے ، کوئی شخص بیت اللہ کا ننگا ہو کر طواف نہ کرے ، جنت میں صرف مومن ہی جائے گا ، علی رضی الله عنہ اعلان کرتے رہے جب وہ تھک جاتے تو انہیں کلمات کا ابوبکر رضی الله عنہ اعلان کرنے لگتے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے ابن عباس کی روایت سے حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3091
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: (3091) إسناده ضعيف (ح 3092، انظر), الحكم مدلس وعنعن (د 1624) وأصل الحديث صحيح متفق عليه (خ 4656، م 1347) بغير ھذا اللفظ
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 6476) (صحیح الإسناد)»