حدیث نمبر: 309
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِ : الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ " قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , وَأَنَسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِ : التِّينِ وَالزَّيْتُونِ " ، وَرُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِسُوَرٍ مِنْ أَوْسَاطِ الْمُفَصَّلِ نَحْوِ سُورَةِ الْمُنَافِقِينَ وَأَشْبَاهِهَا ، وَرُوِيَ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ أَنَّهُمْ قَرَءُوا بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا وَأَقَلَّ ، فَكَأَنَّ الْأَمْرَ عِنْدَهُمْ وَاسِعٌ فِي هَذَا ، وَأَحْسَنُ شَيْءٍ فِي ذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " قَرَأَ بِ : الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَ التِّينِ وَالزَّيْتُون " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- بریدہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے ، ۲- اس باب میں براء بن عازب اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے عشاء میں سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی ۔
۴- عثمان بن عفان سے مروی ہے کہ وہ عشاء میں «وساط مفصل» کی سورتیں جیسے سورۃ المنافقون اور اس جیسی دوسری سورتیں پڑھا کرتے تھے ، ۵- صحابہ کرام اور تابعین سے یہ بھی مروی ہے کہ ان لوگوں نے اس سے زیادہ اور اس سے کم بھی پڑھی ہے ۔ گویا ان کے نزدیک معاملے میں وسعت ہے لیکن اس سلسلے میں سب سے بہتر چیز جو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے وہ یہ کہ آپ نے سورۃ «والشمس وضحاها» اور سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصلاة / حدیث: 309
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صفة الصلاة // 97 //
تخریج حدیث «سنن النسائی/الافتتاح 71 (1000) ، ( تحفة الأشراف : 1962) ، مسند احمد (5/354، 355) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1000

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1000 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عشاء میں «والشمس وضحاها» پڑھنے کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اسی جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1000]
1000۔ اردو حاشیہ: ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عشاء کی نماز میں درمیانی مفصل سورتیں پڑھنا مستحب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1000 سے ماخوذ ہے۔