حدیث نمبر: 3089
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ : " يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ " ، قَالَ : هَذَا الْحَدِيثُ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق لِأَنَّهُ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ إِلَّا مَا رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` حج اکبر کا دن یوم النحر ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ روایت محمد بن اسحاق کی روایت سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ حدیث کئی سندوں سے ابواسحاق سے مروی ہے ، اور ابواسحاق حارث کے واسطہ سے علی رضی الله عنہ سے موقوفاً روایت کرتے ہیں ۔ اور ہم کسی کو محمد بن اسحاق کے سوا نہیں جانتے کہ انہوں نے اسے مرفوع کیا ہو ، ۲- شعبہ نے اس حدیث کو ابواسحاق سے ، ابواسحاق نے عبداللہ بن مرہ سے ، اور عبداللہ نے حارث کے واسطہ سے علی رضی الله عنہ سے موقوفا ہی روایت کی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3089
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: **
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف، انظر حدیث رقم 957 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 957 | سنن ترمذي: 3088

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3088 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حج اکبر کا دن کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: نحر (قربانی) کا دن ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3088]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس لیے کہ اکثر امور حج طواف، زیارت، رمی اور ذبح وحلق وغیرہ اسی دن انجام پاتے ہیں۔
(اوریہ حدیث اس آیت کی تفسیرمیں لائیں ہیں) ﴿يَوْمَ الْحَجِّ الأَكْبَرِ﴾ (التوبة: 3)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3088 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 957 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´حج اکبر کے دن کا بیان۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حج اکبر (بڑے حج) کا دن کون سا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: «یوم النحر» قربانی کا دن۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 957]
اردو حاشہ:
نوٹ:

(سند میں حارث اعورسخت ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 957 سے ماخوذ ہے۔