حدیث نمبر: 3088
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَوْمِ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ ؟ فَقَالَ : " يَوْمُ النَّحْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : حج اکبر کا دن کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” نحر ( قربانی ) کا دن ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس لیے کہ اکثر امور حج طواف، زیارت، رمی اور ذبح و حلق وغیرہ اسی دن انجام پاتے ہیں۔ اور یہ حدیث اس آیت کی تفسیر میں لائیں ہیں «يوم الحج الأكبر» (التوبہ: ۳)۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3088
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ومضى (970)
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 957 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 957 | سنن ترمذي: 3089

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حج اکبر کا دن کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: نحر (قربانی) کا دن ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3088]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس لیے کہ اکثر امور حج طواف، زیارت، رمی اور ذبح وحلق وغیرہ اسی دن انجام پاتے ہیں۔
(اوریہ حدیث اس آیت کی تفسیرمیں لائیں ہیں) ﴿يَوْمَ الْحَجِّ الأَكْبَرِ﴾ (التوبة: 3)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3088 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 957 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´حج اکبر کے دن کا بیان۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حج اکبر (بڑے حج) کا دن کون سا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: «یوم النحر» قربانی کا دن۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 957]
اردو حاشہ:
نوٹ:

(سند میں حارث اعورسخت ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 957 سے ماخوذ ہے۔