حدیث نمبر: 3085
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ سُودِ الرُّءُوسِ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانَتْ تَنْزِلُ نَارٌ مِنَ السَّمَاءِ فَتَأْكُلُهَا " ، قَالَ سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ : فَمَنْ يَقُولُ هَذَا إِلَّا أَبُو هُرَيْرَةَ الْآنَ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ وَقَعُوا فِي الْغَنَائِمِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ لَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : لَوْلا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة الأنفال آية 68 ، قَالَ 12 أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم مسلمانوں سے پہلے کسی کالے بالوں والے ( مراد ہے انسان ) کے لیے اموال غنیمت حلال نہ تھے ، آسمان سے ایک آگ آتی اور غنائم کو کھا جاتی ( بھسم کر دیتی ) سلیمان اعمش کہتے ہیں : اسے ابوہریرہ کے سوا اور کون کہہ سکتا ہے اس وقت ؟ بدر کی لڑائی کے وقت مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ قبل اس کے کہ اموال غنیمت تقسیم کر کے ہر ایک کو دے کر ان کے لیے حلال کر دی جاتیں وہ لوگ اموال غنیمت پر ٹوٹ پڑے ۔ اس وقت اللہ نے یہ آیت «لولا كتاب من الله سبق لمسكم فيما أخذتم عذاب عظيم» ” اگر پہلے سے تمہارے حق میں اللہ کی جانب سے لکھا نہ جا چکا ہو تاکہ تمہیں غنائم ملیں گے تو تمہیں تمہارے اس کے لینے کے سبب سے بڑا عذاب پہنچتا “ ( الأنفال : ۶۸ ) نازل فرمائی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اعمش کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3085
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (2155) , شیخ زبیر علی زئی: (3085) إسناده ضعيف, سليمان الاعمش عنعن (تقدم: 169) وحديث البخاري (3124) ومسلم (1747) يغني عنه
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 12378) ، وانظر صحیح مسلم/الجھاد 11 (1747) ، و مسند احمد (2/252، 317، 318) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الانفال سے بعض آیات کی تفسیر​۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مسلمانوں سے پہلے کسی کالے بالوں والے (مراد ہے انسان) کے لیے اموال غنیمت حلال نہ تھے، آسمان سے ایک آگ آتی اور غنائم کو کھا جاتی (بھسم کر دیتی) سلیمان اعمش کہتے ہیں: اسے ابوہریرہ کے سوا اور کون کہہ سکتا ہے اس وقت؟ بدر کی لڑائی کے وقت مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ قبل اس کے کہ اموال غنیمت تقسیم کر کے ہر ایک کو دے کر ان کے لیے حلال کر دی جاتیں وہ لوگ اموال غنیمت پر ٹوٹ پڑے۔ اس وقت اللہ نے یہ آیت «لولا كتاب من الله سبق لمسكم فيما أخذتم عذاب عظيم» اگر پہلے سے تمہارے ح۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3085]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اگر پہلے سے تمہارے حق میں اللہ کی جانب سے لکھانہ جاچکا ہوتا کہ تمہیں غنائم ملیں گے تو تمہیں تمہارے اس کے لینے کے سبب سے بڑا عذاب پہنچتا(الأنفال: 68)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3085 سے ماخوذ ہے۔