سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنْفَالِ باب: سورۃ الانفال سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ : وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ سورة الأنفال آية 60 ، قَالَ : أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، أَلَا إِنَّ اللَّهَ سَيَفْتَحُ لَكُمُ الْأَرْضَ وَسَتُكْفَوْنَ الْمُؤْنَةَ فَلَا يَعْجِزَنَّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، رَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، وَحَدِيثُ وَكِيعٍ أَصَحُّ ، وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ لَمْ يُدْرِكْ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ وَقَدْ أَدْرَكَ ابْنَ عُمَرَ .´عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر آیت : «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» ” تم کافروں کے مقابلے کے لیے جتنی قوت فراہم کر سکتے ہو کرو “ ( الانفال : ۶۰ ) پڑھی ، اور فرمایا : «قوة» سے مراد تیر اندازی ہے ۔ آپ نے یہ بات تین بار کہی ، سنو عنقریب اللہ تمہیں زمین پر فتح دیدے گا ۔ اور تمہیں مستغنی اور بے نیاز کر دے گا ۔ تو ایسا ہرگز نہ ہو کہ تم میں سے کوئی بھی ( نیزہ بازی اور ) تیر اندازی سے عاجز و غافل ہو جائے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- بعض نے یہ حدیث اسامہ بن زید سے روایت کی ہے اور اسامہ نے صالح بن کیسان سے روایت کی ہے ، ۲- ابواسامہ نے اور کئی لوگوں نے اسے عقبہ بن عامر سے روایت کیا ہے ، ۳- وکیع کی حدیث زیادہ صحیح ہے ، ۴- صالح بن کیسان کی ملاقات عقبہ بن عامر سے نہیں ہے ، ہاں ان کی ملاقات ابن عمر سے ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر آیت: «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» ” تم کافروں کے مقابلے کے لیے جتنی قوت فراہم کر سکتے ہو کرو “ (الانفال: ۶۰) پڑھی، اور فرمایا: «قوة» سے مراد تیر اندازی ہے۔ آپ نے یہ بات تین بار کہی، سنو عنقریب اللہ تمہیں زمین پر فتح دیدے گا۔ اور تمہیں مستغنی اور بے نیاز کر دے گا۔ تو ایسا ہرگز نہ ہو کہ تم میں سے کوئی بھی (نیزہ بازی اور) تیر اندازی سے عاجز و غافل ہو جائے۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3083]
وضاحت:
1؎:
تم کافروں کے مقابلے کے لیے جتنی قوت فراہم کر سکتے ہو کرو (الأنفال: 60)
نوٹ:
(سند میں ایک راوی مبہم ہے جو دوسروں کی سند میں نہیں ہے، لیکن متابعات کی بنا پر مؤلف کی یہ روایت صحیح لغیرہ ہے)
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: آپ آیت کریمہ «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» ” تم ان کے مقابلہ کے لیے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو “ (سورۃ الأنفال: ۶۰) پڑھ رہے تھے اور فرما رہے تھے: ” سن لو، قوت تیر اندازی ہی ہے، سن لو قوت تیر اندازی ہی ہے، سن لو قوت تیر اندازی ہی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2514]
(رمی) کے معنی ہیں۔
کسی چیز کو پھینک کر مارنا تیر اندزی کا یہ بیان بطور رمز کے ہے، ورنہ مطلوب یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان مسلمان کے لئے رائج الوقت اسلحہ کے استعمال کی تربیت حاصل کرنا ضروری ہے۔
اور چلا کرمارنے والے اسلحے ہی سب سے اہم ترین ہیں۔
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر آیت کریمہ: «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» (سورۃ الانفال: ۶۰) ” دشمن کے لیے طاقت بھر تیاری کرو “ کو پڑھتے ہوئے سنا: (اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:) ” آگاہ رہو! طاقت کا مطلب تیر اندازی ہی ہے “ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2813]
فوائد و مسائل:
(1)
مسلمان کو کافروں کے مقابلے میں ہر قسم کے اسلحے میں برتر ہونا چاہیے۔
(2) (رمي)
کے اصل معنی پھینکنے کے ہیں۔
دور نبوت میں صرف تیر ہی دور سے پھینک کر استعمال کیا جانےوالا ہتھیار تھا اس لیے اس کا ترجمہ تیر اندازی کیا جاتا ہے تاہم اصل لغوی معنی کے لحاظ سے ہر قسم کی رائفل، بندوق، کلاشنکوف، توپ اور میزائل وغیرہ اس میں شامل ہیں۔
(3)
مسلمانوں کو اپنے دفاع کے لیے اس قسم کے اسلحے پر خاص توجہ دینی چاہیے جسے دور سے پھینکا جاتا ہے اور اسے پھینکنے کے آلات (راکٹ لانچر اور بمبار طیارے وغیرہ)
بھی تیار کرنے چاہییں۔