حدیث نمبر: 3083
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ : وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ سورة الأنفال آية 60 ، قَالَ : أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، أَلَا إِنَّ اللَّهَ سَيَفْتَحُ لَكُمُ الْأَرْضَ وَسَتُكْفَوْنَ الْمُؤْنَةَ فَلَا يَعْجِزَنَّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، رَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، وَحَدِيثُ وَكِيعٍ أَصَحُّ ، وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ لَمْ يُدْرِكْ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ وَقَدْ أَدْرَكَ ابْنَ عُمَرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر آیت : «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» ” تم کافروں کے مقابلے کے لیے جتنی قوت فراہم کر سکتے ہو کرو “ ( الانفال : ۶۰ ) پڑھی ، اور فرمایا : «قوة» سے مراد تیر اندازی ہے ۔ آپ نے یہ بات تین بار کہی ، سنو عنقریب اللہ تمہیں زمین پر فتح دیدے گا ۔ اور تمہیں مستغنی اور بے نیاز کر دے گا ۔ تو ایسا ہرگز نہ ہو کہ تم میں سے کوئی بھی ( نیزہ بازی اور ) تیر اندازی سے عاجز و غافل ہو جائے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- بعض نے یہ حدیث اسامہ بن زید سے روایت کی ہے اور اسامہ نے صالح بن کیسان سے روایت کی ہے ، ۲- ابواسامہ نے اور کئی لوگوں نے اسے عقبہ بن عامر سے روایت کیا ہے ، ۳- وکیع کی حدیث زیادہ صحیح ہے ، ۴- صالح بن کیسان کی ملاقات عقبہ بن عامر سے نہیں ہے ، ہاں ان کی ملاقات ابن عمر سے ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3083
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، ابن ماجة (2813)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الإمارة 52 (1917) ، سنن ابی داود/ الجھاد 24 (2514) ، سنن ابن ماجہ/الجھاد 19 (2813) ( تحفة الأشراف : 9975) ، و مسند احمد (4/157) ، وسنن الدارمی/الجھاد 14 (2448) (صحیح) (سند میں ایک راوی مبہم ہے جو دوسروں کی سند میں نہیں ہے، لیکن متابعات کی بنا پر مؤلف کی یہ روایت صحیح لغیرہ ہے)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1917 | سنن ابي داود: 2514 | سنن ابن ماجه: 2813

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الانفال سے بعض آیات کی تفسیر​۔`
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر آیت: «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» تم کافروں کے مقابلے کے لیے جتنی قوت فراہم کر سکتے ہو کرو (الانفال: ۶۰) پڑھی، اور فرمایا: «قوة» سے مراد تیر اندازی ہے۔ آپ نے یہ بات تین بار کہی، سنو عنقریب اللہ تمہیں زمین پر فتح دیدے گا۔ اور تمہیں مستغنی اور بے نیاز کر دے گا۔ تو ایسا ہرگز نہ ہو کہ تم میں سے کوئی بھی (نیزہ بازی اور) تیر اندازی سے عاجز و غافل ہو جائے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3083]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تم کافروں کے مقابلے کے لیے جتنی قوت فراہم کر سکتے ہو کرو (الأنفال: 60)

  نوٹ:
(سند میں ایک راوی مبہم ہے جو دوسروں کی سند میں نہیں ہے، لیکن متابعات کی بنا پر مؤلف کی یہ روایت صحیح لغیرہ ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3083 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1917 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا، ’’جہاں تک تمہارے بس میں ہے، ان کے لیے قوت (طاقت، اسلحہ) تیار کرو، خبردار، قوت، تیر اندازی ہے، خبردار، قوت، تیر اندازی ہے خبردار، قوت، تیر اندازی ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4946]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بہترین اقدامی اور دفاعی اسلحہ تیر اندازی تھا، جس کے ذریعہ دشمن کو نقصان پہنچایا جا سکتا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے، اپنے اپنے دور کے اسلحہ سے بہترین ہتھیار تیار کرنے اور اس میں مہارت حاصل کرنے کی تلقین کی گئی ہے، اس کا اصل معنی پھینکنا ہے، اس لیے اس کے تحت ہر قسم کا پھینکنے والا اسلحہ آ جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1917 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2514 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´تیر اندازی کا بیان۔`
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: آپ آیت کریمہ «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» تم ان کے مقابلہ کے لیے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو (سورۃ الأنفال: ۶۰) پڑھ رہے تھے اور فرما رہے تھے: سن لو، قوت تیر اندازی ہی ہے، سن لو قوت تیر اندازی ہی ہے، سن لو قوت تیر اندازی ہی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2514]
فوائد ومسائل:
(رمی) کے معنی ہیں۔
کسی چیز کو پھینک کر مارنا تیر اندزی کا یہ بیان بطور رمز کے ہے، ورنہ مطلوب یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان مسلمان کے لئے رائج الوقت اسلحہ کے استعمال کی تربیت حاصل کرنا ضروری ہے۔
اور چلا کرمارنے والے اسلحے ہی سب سے اہم ترین ہیں۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2514 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2813 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´اللہ کی راہ میں تیر اندازی کا بیان۔`
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر آیت کریمہ: «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» (سورۃ الانفال: ۶۰) دشمن کے لیے طاقت بھر تیاری کرو کو پڑھتے ہوئے سنا: (اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:) آگاہ رہو! طاقت کا مطلب تیر اندازی ہی ہے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2813]
اردو حاشہ:
  فوائد و مسائل:
(1)
مسلمان کو کافروں کے مقابلے میں ہر قسم کے اسلحے میں برتر ہونا چاہیے۔

(2) (رمي)
کے اصل معنی پھینکنے کے ہیں۔
دور نبوت میں صرف تیر ہی دور سے پھینک کر استعمال کیا جانےوالا ہتھیار تھا اس لیے اس کا ترجمہ تیر اندازی کیا جاتا ہے تاہم اصل لغوی معنی کے لحاظ سے ہر قسم کی رائفل، بندوق، کلاشنکوف، توپ اور میزائل وغیرہ اس میں شامل ہیں۔

(3)
مسلمانوں کو اپنے دفاع کے لیے اس قسم کے اسلحے پر خاص توجہ دینی چاہیے جسے دور سے پھینکا جاتا ہے اور اسے پھینکنے کے آلات (راکٹ لانچر اور بمبار طیارے وغیرہ)
بھی تیار کرنے چاہییں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2813 سے ماخوذ ہے۔