حدیث نمبر: 3077
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَمَّا حَمَلَتْ حَوَّاءُ طَافَ بِهَا إِبْلِيسُ وَكَانَ لَا يَعِيشُ لَهَا وَلَدٌ ، فَقَالَ : سَمِّيهِ عَبْدَ الْحَارِثِ فَسَمَّتْهُ عَبْدَ الْحَارِثِ فَعَاشَ ، وَكَانَ ذَلِكَ مِنْ وَحْيِ الشَّيْطَانِ وَأَمْرِهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب حواء حاملہ ہوئیں تو ان کے پاس شیطان آیا ، ان کے بچے جیتے نہ تھے ، تو اس نے کہا : ( اب جب تیرا بچہ پیدا ہو ) تو اس کا نام عبدالحارث رکھ ، چنانچہ حواء نے اس کا نام عبدالحارث ہی رکھا تو وہ جیتا رہا ۔ ایسا انہوں نے شیطانی وسوسے اور اس کے مشورے سے کیا تھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ ہم اسے مرفوع صرف عمر بن ابراہیم کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ قتادہ سے روایت کرتے ہیں ، ۲- بعض راویوں نے یہ حدیث عبدالصمد سے روایت کی ہے ، لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے ، ۳- عمر بن ابراہیم بصریٰ شیخ ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3077
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الضعيفة (342) // ضعيف الجامع الصغير (4769) // , شیخ زبیر علی زئی: (3077) إسناده ضعيف, عمر بن إبراھيم العبدي : صدوق، في حديثه عن قتادة ضعف (تق: 4863)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4604) (ضعیف) (حسن بصری مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، اور حسن کا سمرہ رضی الله عنہ سے سماع میں سخت اختلاف ہے، اور عمر بن ابراہیم کی قتادہ سے روایت میں اضطراب پایا جاتا ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم 342)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الاعراف سے بعض آیات کی تفسیر۔`
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حواء حاملہ ہوئیں تو ان کے پاس شیطان آیا، ان کے بچے جیتے نہ تھے، تو اس نے کہا: (اب جب تیرا بچہ پیدا ہو) تو اس کا نام عبدالحارث رکھ، چنانچہ حواء نے اس کا نام عبدالحارث ہی رکھا تو وہ جیتا رہا۔ ایسا انہوں نے شیطانی وسوسے اور اس کے مشورے سے کیا تھا۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3077]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(حسن بصری مدلس ہیں اورروایت عنعنہ سے ہے، اور حسن کا سمرہ رضی اللہ عنہ سے سماع میں سخت اختلاف ہے، اور عمر بن ابراہیم کی قتادہ سے روایت میں اضطراب پایا جاتاہے، ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم: 342)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3077 سے ماخوذ ہے۔