حدیث نمبر: 3074
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا سورة الأعراف آية 143 ، قَالَ حَمَّادٌ : هَكَذَا وَأَمْسَكَ سُلَيْمَانُ بِطَرَفِ إِبْهَامِهِ عَلَى أُنْمُلَةِ إِصْبَعِهِ الْيُمْنَى قَالَ فَسَاخَ الْجَبَلُ : وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا سورة الأعراف آية 143 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی : «فلما تجلى ربه للجبل جعله دكا» ” جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو تجلی نے اس کے پرخچ اڑا دیے “ ( الأعراف : ۱۴۳ ) ، حماد ( راوی ) نے کہا : اس طرح ، پھر سلیمان ( راوی ) نے اپنی داہنی انگلی کے پور پر اپنے انگوٹھے کا کنارا رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( بس اتنی سی دیر میں ) پہاڑ زمین میں دھنس گیا ، «وخر موسى صعقا» اور موسیٰ علیہ السلام چیخ مار کر گر پڑے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ، ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے جانتے ہیں ۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْوَرَّاقُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے معاذ` حماد بن سلمہ سے ، حماد بن سلمہ نے ثابت سے اور ثابت نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3074
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ظلال الجنة (480)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 380) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الاعراف سے بعض آیات کی تفسیر۔`
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «فلما تجلى ربه للجبل جعله دكا» " جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو تجلی نے اس کے پرخچ اڑا دیے " (الأعراف: ۱۴۳)، حماد (راوی) نے کہا: اس طرح، پھر سلیمان (راوی) نے اپنی داہنی انگلی کے پور پر اپنے انگوٹھے کا کنارا رکھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " (بس اتنی سی دیر میں) پہاڑ زمین میں دھنس گیا، «وخر موسى صعقا» اور موسیٰ علیہ السلام چیخ مار کر گر پڑے۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3074]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو تجلی نے اس کے پرخچے اڑا دیے (الأعراف: 143)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3074 سے ماخوذ ہے۔