سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ الأَنْعَامِ باب: سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3071
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ سورة الأنعام آية 158 ، قَالَ : " طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت : «أو يأتي بعض آيات ربك» ” یا تیرے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں “ ( الانعام : ۱۵۸ ) ، کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد سورج کا پچھم سے نکلنا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- بعض دوسرے لوگوں نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «أو يأتي بعض آيات ربك» ” یا تیرے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں “ (الانعام: ۱۵۸)، کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد سورج کا پچھم سے نکلنا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3071]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «أو يأتي بعض آيات ربك» ” یا تیرے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں “ (الانعام: ۱۵۸)، کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد سورج کا پچھم سے نکلنا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3071]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یا تیرے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں (الأنعام: 158)
نوٹ:
(سند میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی اور عطیہ عوفی دونوں ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت:
1؎:
یا تیرے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں (الأنعام: 158)
نوٹ:
(سند میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی اور عطیہ عوفی دونوں ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3071 سے ماخوذ ہے۔