حدیث نمبر: 3063
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ حُيَيٍّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ : " آخِرُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ الْمَائِدَةُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَرُوِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " آخِرُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ " إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت سورۃ المائدہ ( اور سورۃ الفتح ) ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اور ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : آخری سورۃ جو نازل ہوئی ہے وہ «إذا جاء نصر الله والفتح» ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اور صحیح بخاری میں براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ آخری آیت جو نازل ہوئی وہ ہے «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» (النساء: ۱۷۶) ان سب اقوال کے درمیان اس طرح تطبیق دی جاتی ہے کہ ہر ایک نے اپنی معلومات کے مطابق خبر دی ہے، اس بابت کوئی مرفوع روایت تو ہے نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3063
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 8862) (حسن الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت سورۃ المائدہ (اور سورۃ الفتح) ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3063]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اور صحیح بخاری میں براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ آخری آیت جو نازل ہوئی وہ ہے ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ﴾ (النساء: 176) ان سب اقوال کے درمیان اس طرح تطبیق دی جاتی ہے کہ ہر ایک نے اپنی معلومات کے مطابق خبر دی ہے، اس بابت کوئی مرفوع روایت تو ہے نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3063 سے ماخوذ ہے۔