حدیث نمبر: 3060
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : " خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، وَعَدِيِّ بْنِ بَدَّاءٍ فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ فِيهَا مُسْلِمٌ ، فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ فَقَدُوا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ ، فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ ، فَقِيلَ : اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ عَدِيٍّ ، وَتَمِيمٍ ، فَقَامَ رَجُلَانِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ ، فَحَلَفَا بِاللَّهِ لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَأَنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ ، قَالَ : وَفِيهِمْ نَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ سورة المائدة آية 106 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` بنی سہم کا ایک شخص ، تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ ( سفر پر ) نکلا اور یہ سہمی ( جو تمیم داری اور عدی کا ہم سفر تھا ) ایک ایسی سر زمین میں انتقال کر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا ، جب اس کے دونوں ساتھی اس کا ترکہ لے کر آئے تو اس کے گھر والے ( ورثاء ) کو اس کے متروکہ سامان میں چاندی کا وہ پیالہ نہ ملا جس پر سونے کا جڑاؤ تھا ، چنانچہ ( جب مقدمہ پیش ہوا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے قسم کھلائی ۔ ( اور انہوں نے قسم کھا لی کہ ہمیں پیالہ نہیں ملا تھا ) لیکن وہ پیالہ سہمی کے گھر والوں کو مکہ میں کسی اور کے پاس مل گیا ، انہوں نے بتایا کہ ہم نے تمیم اور عدی سے اسے خریدا ہے ۔ تب سہمی کے وارثین میں سے دو شخص کھڑے ہوئے ۔ اور انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ ہماری شہادت ان دونوں کی گواہی سے زیادہ سچی ہے ۔ اور پیالہ ہمارے ہی آدمی کا ہے ۔ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں : انہیں لوگوں کے بارے میں «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم» والی آیت نازل ہوئی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ، یہ ابن ابی زائدہ کی روایت ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3060
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الوصایا 35 (2780) ، سنن ابی داود/ الأقضیة 19 (3606) ( تحفة الأشراف : 5551) (صحیح)»