حدیث نمبر: 3044
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ : " قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3 وَعِنْدَهُ يَهُودِيٌّ ، فَقَالَ : لَوْ أُنْزِلَتْ هَذِهِ عَلَيْنَا لَاتَّخَذْنَا يَوْمَهَا عِيدًا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَإِنَّهَا نَزَلَتْ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي يَوْمِ جُمْعَةٍ وَيَوْمِ عَرَفَةَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمار بن ابی عمار کہتے ہیں کہ` ابن عباس رضی الله عنہما نے آیت «اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا» پڑھی ، ان کے پاس ایک یہودی بیٹھا ہوا تھا ۔ اس نے کہا : اگر یہ آیت ہم ( یہودیوں ) پر نازل ہوئی ہوتی تو جس دن یہ آیت نازل ہوئی ہے اس دن کو ہم عید ( تہوار ) کا دن بنا لیتے یہ سن کر ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا : یہ آیت عید ہی کے دن نازل ہوئی ہے ۔ اس دن جمعہ اور عرفہ کا دن تھا ۔ ( اور یہ دونوں دن مسلمانوں کی عید کے دن ہیں ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث ابن عباس کی روایت سے حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3044
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 6296) (صحیح الإسناد)»