سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3041
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ : " آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ أَوْ آخِرُ شَيْءٍ نَزَلَ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَأَبُو السَّفَرِ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ أَحْمَدَ الثَّوْرِيُّ ، وَيُقَالُ ابْنُ يُحْمِدَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` آخری آیت جو نازل ہوئی یا آخری چیز جو نازل کی گئی ہے وہ یہ آیت ہے «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ۔
وضاحت:
۱؎: آپ سے فتوی پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے ” اس آدمی کے بارے میں جس کی کوئی اولاد نہ ہو، نہ ہی ماں باپ، اللہ حکم دیتا ہے کہ ایسے آدمی کی اگر ایک بہن ہو تو اس کو جائیداد کا آدھا حصہ مل جائے گا، اگر دو بہن ہوں تو ان دونوں کو دو تہائی حصہ ملے گا اور اگر بھائی بہن مل کر ہوں تو ایک بھائی دو بہن کے برابر حصے ملے گا۔ “ (النساء: ۱۷۶)
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر۔`
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آخری آیت جو نازل ہوئی یا آخری چیز جو نازل کی گئی ہے وہ یہ آیت ہے «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3041]
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آخری آیت جو نازل ہوئی یا آخری چیز جو نازل کی گئی ہے وہ یہ آیت ہے «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3041]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
’’آپ سے فتوی پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے (اس آدمی کے بارے میں جس کی کوئی اولاد نہ ہو، نہ ہی ماں باپ، اللہ حکم دیتا ہے کہ ایسے آدمی کی اگر ایک بہن ہو تو اس کو جائیداد کا آدھا حصہ مل جائے گا، اگر دو بہن ہوں تو ان دونوں کو دو تہائی حصہ ملے گا اور اگر بھائی بہن مل کر ہوں تو ایک بھائی دو بہن کے برابر حصے ملے گا‘‘ (النساء: 176)
وضاحت:
1؎:
’’آپ سے فتوی پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے (اس آدمی کے بارے میں جس کی کوئی اولاد نہ ہو، نہ ہی ماں باپ، اللہ حکم دیتا ہے کہ ایسے آدمی کی اگر ایک بہن ہو تو اس کو جائیداد کا آدھا حصہ مل جائے گا، اگر دو بہن ہوں تو ان دونوں کو دو تہائی حصہ ملے گا اور اگر بھائی بہن مل کر ہوں تو ایک بھائی دو بہن کے برابر حصے ملے گا‘‘ (النساء: 176)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3041 سے ماخوذ ہے۔