سنن ترمذي
كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تفسیر قرآن کریم
باب وَمِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ : " مَا فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ سورة النساء آية 48 " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو فَاخِتَةَ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ عِلَاقَةَ ، وَثُوَيْرٌ يُكْنَى أَبَا جَهْمٍ وَهُوَ رَجُلٌ كُوفِيٌّ مِنَ التَّابِعِينَ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنَ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ كَانَ يَغْمِزُهُ قَلِيلًا .´علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` قرآن میں کوئی آیت مجھے اس آیت : «إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء» ” اللہ اس بات کو معاف نہیں کر سکتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے ، ہاں اس کے سوا جس کسی بھی چیز کو چاہے گا معاف کر دے گا “ ( النساء : ۱۱۶ ) ، سے زیادہ محبوب و پسندیدہ نہیں ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- ابوفاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے ، ۳- ثویر کی کنیت ابوجہم ہے اور وہ کوفہ کے رہنے والے ہیں تابعی ہیں اور ابن عمر اور ابن زبیر سے ان کا سماع ہے ، ابن مہدی ان پر کچھ طعن کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قرآن میں کوئی آیت مجھے اس آیت: «إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء» ” اللہ اس بات کو معاف نہیں کر سکتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، ہاں اس کے سوا جس کسی بھی چیز کو چاہے گا معاف کر دے گا “ (النساء: ۱۱۶)، سے زیادہ محبوب و پسندیدہ نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3037]
وضاحت:
1؎:
’’اللہ اس بات کو معاف نہیں کر سکتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، ہاں اس کے سوا جس کسی بھی چیز کو چاہے گا معاف کر دے گا‘‘ (النساء: 116)
نوٹ:
(سند میں ثویر شیعی اور ضعیف راوی ہے)