حدیث نمبر: 3037
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ : " مَا فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ سورة النساء آية 48 " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو فَاخِتَةَ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ عِلَاقَةَ ، وَثُوَيْرٌ يُكْنَى أَبَا جَهْمٍ وَهُوَ رَجُلٌ كُوفِيٌّ مِنَ التَّابِعِينَ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنَ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ كَانَ يَغْمِزُهُ قَلِيلًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` قرآن میں کوئی آیت مجھے اس آیت : «إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء» ” اللہ اس بات کو معاف نہیں کر سکتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے ، ہاں اس کے سوا جس کسی بھی چیز کو چاہے گا معاف کر دے گا “ ( النساء : ۱۱۶ ) ، سے زیادہ محبوب و پسندیدہ نہیں ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- ابوفاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے ، ۳- ثویر کی کنیت ابوجہم ہے اور وہ کوفہ کے رہنے والے ہیں تابعی ہیں اور ابن عمر اور ابن زبیر سے ان کا سماع ہے ، ابن مہدی ان پر کچھ طعن کرتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3037
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: (3037) إسناده ضعيف, ثوير ضعيف رافضي (تقدم: 501)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10111) (ضعیف الإسناد) (سند میں ثویر شیعی اور ضعیف راوی ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر۔`
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قرآن میں کوئی آیت مجھے اس آیت: «إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء» اللہ اس بات کو معاف نہیں کر سکتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، ہاں اس کے سوا جس کسی بھی چیز کو چاہے گا معاف کر دے گا (النساء: ۱۱۶)، سے زیادہ محبوب و پسندیدہ نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3037]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
’’اللہ اس بات کو معاف نہیں کر سکتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، ہاں اس کے سوا جس کسی بھی چیز کو چاہے گا معاف کر دے گا‘‘ (النساء: 116)

نوٹ:
(سند میں ثویر شیعی اور ضعیف راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3037 سے ماخوذ ہے۔